صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب الألد الخصم:
باب: الدالخصم کا بیان۔
حدیث نمبر: Q7188
وَهْوَ الدَّائِمُ فِي الْخُصُومَةِ. {لُدًّا} عُوجًا.
یعنی اس شخص کا بیان جو ہمیشہ لوگوں سے لڑتا جھگڑتا رہے «لدا» یعنی ٹیڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: Q7188]
حدیث نمبر: 7188
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7188]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7188
| أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم |
صحيح البخاري |
2457
| أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم |
صحيح مسلم |
6780
| أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم |
جامع الترمذي |
2976
| أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم |
سنن النسائى الصغرى |
5425
| أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7188 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7188
حدیث حاشیہ:
1۔
لڑنا،جھگڑنا، بات بات پر پھڈا ڈالنا اور سینگ پھنسانا کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔
حکومتی معاملات کے لیے ایسا رویہ انتہائی مہلک اور نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے اجتماعیت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے لڑائی جھگڑے کو ترک کر دینے کی بہت فضیلت بیان کی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میں ایسے شخص کے لیے جنت میں بہترین مکان کا ضامن ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے لڑائی جھگڑا چھوڑ دیتا ہے۔
“ (سنن أبي داؤد، الأدب، حدیث: 4800)
2۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ انسان انتہائی ناپسندیدہ ہے جو ہمیشہ جھگڑتا رہے اوربغض وعناد رکھتے ہوئے حق کوقبول نہ کرے۔
یہ معنی کافر اور مسلمان دونوں کو شامل ہیں۔
1۔
لڑنا،جھگڑنا، بات بات پر پھڈا ڈالنا اور سینگ پھنسانا کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔
حکومتی معاملات کے لیے ایسا رویہ انتہائی مہلک اور نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے اجتماعیت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے لڑائی جھگڑے کو ترک کر دینے کی بہت فضیلت بیان کی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میں ایسے شخص کے لیے جنت میں بہترین مکان کا ضامن ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے لڑائی جھگڑا چھوڑ دیتا ہے۔
“ (سنن أبي داؤد، الأدب، حدیث: 4800)
2۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ انسان انتہائی ناپسندیدہ ہے جو ہمیشہ جھگڑتا رہے اوربغض وعناد رکھتے ہوئے حق کوقبول نہ کرے۔
یہ معنی کافر اور مسلمان دونوں کو شامل ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7188]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5425
لڑاکے اور جھگڑالو کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5425]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5425]
اردو حاشہ:
اس سے وہ شخص مراد ہے جو ہر وقت جھگڑتا رہتا ہے‘ باطل اور جھوٹ پر ہونے کے باوجود ضد اور جھگڑا نہیں چھوڑتا‘ نیز مخالفت حق میں ہر شخص اور ہر بات پر جھگڑتا ہے۔ واللہ أعلم
اس سے وہ شخص مراد ہے جو ہر وقت جھگڑتا رہتا ہے‘ باطل اور جھوٹ پر ہونے کے باوجود ضد اور جھگڑا نہیں چھوڑتا‘ نیز مخالفت حق میں ہر شخص اور ہر بات پر جھگڑتا ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5425]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2976
سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2976]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2976]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اشارہ ہے ارشاد باری:
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ﴾ (البقرۃ: 204) کی طرف۔
یعنی لوگوں میں سے بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دنیاوی زندگی میں ان کی بات آپ کو اچھی لگے گی جب کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جو اُس کے دل میں ہے گواہ بنا رہا ہوتا ہے،
حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو ہوتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
یہ اشارہ ہے ارشاد باری:
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ﴾ (البقرۃ: 204) کی طرف۔
یعنی لوگوں میں سے بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دنیاوی زندگی میں ان کی بات آپ کو اچھی لگے گی جب کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جو اُس کے دل میں ہے گواہ بنا رہا ہوتا ہے،
حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو ہوتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2976]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6780
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ کے نزدیک سب مردوں سے برا اور مبغوض وہ شخص ہے، جو انتہائی سخت جھگڑا لوہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6780]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ألد:
بہت جھگڑالو،
کیونکہ لدد جھگڑے کو کہتے ہیں اور خصم،
بھی سخت اور جھگڑے کی مہارت کو کہتے ہیں،
مقصد یہ ہے،
اس کا کام محض جھگڑنا اور بحث کرنا ہے،
جائز یا ناجائز اور حق و باطل سے غرض نہیں ہے،
حق کے ابطال اور باطل کے اثبات کے لیے جھگڑنا بھی اس میں داخل ہے۔
فوائد ومسائل:
ألد:
بہت جھگڑالو،
کیونکہ لدد جھگڑے کو کہتے ہیں اور خصم،
بھی سخت اور جھگڑے کی مہارت کو کہتے ہیں،
مقصد یہ ہے،
اس کا کام محض جھگڑنا اور بحث کرنا ہے،
جائز یا ناجائز اور حق و باطل سے غرض نہیں ہے،
حق کے ابطال اور باطل کے اثبات کے لیے جھگڑنا بھی اس میں داخل ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6780]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2457
2457. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو شخص جھگڑالو ہو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2457]
حدیث حاشیہ:
بعض بدبختوں کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ ذرا ذرا سی باتوں میں آپس میں جھگڑا فساد کرتے رہتے ہیں۔
ایسے لوگ عنداللہ بہت ہی برے ہیں۔
پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے، لوگوں میں کوئی ایسا ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں تجھ کو بھلی لگتی ہے اور اپنے دل کی حالت پر اللہ کو گواہ کرتاہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں اتری۔
وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام کا دعوی کرکے میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگا۔
جب کہ دل میں نفاق رکھتا تھا۔
(وحیدی)
بعض بدبختوں کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ ذرا ذرا سی باتوں میں آپس میں جھگڑا فساد کرتے رہتے ہیں۔
ایسے لوگ عنداللہ بہت ہی برے ہیں۔
پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے، لوگوں میں کوئی ایسا ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں تجھ کو بھلی لگتی ہے اور اپنے دل کی حالت پر اللہ کو گواہ کرتاہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں اتری۔
وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام کا دعوی کرکے میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگا۔
جب کہ دل میں نفاق رکھتا تھا۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2457]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2457
2457. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو شخص جھگڑالو ہو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2457]
حدیث حاشیہ:
(1)
ألدالخصم سے مراد وہ شخص ہے جو ذرا ذرا سی بات پر لوگوں سے جھگڑتا ہو یا باطل کا دفاع کرنے میں بڑی مہارت رکھتا ہو۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں بھی ذکر کیا ہے، تاہم اس مقام پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عام طور پر مظالم اور تنازعات میں جھگڑوں اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی ہے، لہذا حتی الامکان جھگڑوں اور جنگ و قتال سے بچنا چاہیے۔
(2)
واضح رہے کہ آیت کریمہ میں (أَلَدُّ الْخِصَامِ)
سے مراد اخنس بن شریق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک منافق انسان تھا۔
(1)
ألدالخصم سے مراد وہ شخص ہے جو ذرا ذرا سی بات پر لوگوں سے جھگڑتا ہو یا باطل کا دفاع کرنے میں بڑی مہارت رکھتا ہو۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں بھی ذکر کیا ہے، تاہم اس مقام پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عام طور پر مظالم اور تنازعات میں جھگڑوں اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی ہے، لہذا حتی الامکان جھگڑوں اور جنگ و قتال سے بچنا چاہیے۔
(2)
واضح رہے کہ آیت کریمہ میں (أَلَدُّ الْخِصَامِ)
سے مراد اخنس بن شریق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک منافق انسان تھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2457]
Sahih Bukhari Hadith 7188 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق