صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما يجوز من اللو:
باب: لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز۔
حدیث نمبر: 7245
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الَّنبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارٍ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا"، تَابَعَهُ أَبُو التِّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ فِي الشِّعْبِ.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ اس روایت کی متابعت ابوالتیاح نے کی، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس میں بھی درے کا ذکر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7245]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7245
| لولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار لو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبها |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7245 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7245
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث کتاب المغازی میں موصولاً گزر چکی ہے۔
اس باب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث کو جمع کیا جن میں اگر کا لفظ ہے تو معلوم ہوا کہ اگر مگر کہنا مطلقاً منع نہیں ہے اور دوسری حدیث میں جو آیا ہے اگر مگر سے بچا رہ وہ خاص مقاموں پر محمول ہے یعنی جب کسی کار خیر کا ارادہ کرے اور اس پر قدرت ہو تو اس کو کرڈالے۔
اس میں اگر مگر نہ نکالے۔
دوسرے جب کوئی مصیبت پیش آئے کچھ نقصان ہو جائے تو اللہ کی تقدیر اور اس کے ارادے سے سمجھے۔
اس میں بھی اگر مگر نکالنا اور یوں کہنا اگر ہم ایسا کرتے تو یہ آفت نہ آتی منع ہے کیونکہ اس میں تقدیر الٰہی پر بے اعتمادی اور اپنی تدبیر پر بھروسہ نکلتا ہے۔
یہ حدیث کتاب المغازی میں موصولاً گزر چکی ہے۔
اس باب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث کو جمع کیا جن میں اگر کا لفظ ہے تو معلوم ہوا کہ اگر مگر کہنا مطلقاً منع نہیں ہے اور دوسری حدیث میں جو آیا ہے اگر مگر سے بچا رہ وہ خاص مقاموں پر محمول ہے یعنی جب کسی کار خیر کا ارادہ کرے اور اس پر قدرت ہو تو اس کو کرڈالے۔
اس میں اگر مگر نہ نکالے۔
دوسرے جب کوئی مصیبت پیش آئے کچھ نقصان ہو جائے تو اللہ کی تقدیر اور اس کے ارادے سے سمجھے۔
اس میں بھی اگر مگر نکالنا اور یوں کہنا اگر ہم ایسا کرتے تو یہ آفت نہ آتی منع ہے کیونکہ اس میں تقدیر الٰہی پر بے اعتمادی اور اپنی تدبیر پر بھروسہ نکلتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7245]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7245
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے خاندانی نسب سے منتقل ہونا مراد نہیں کیونکہ خاندانی نسب دوسری طرف منتقل کرناحرام ہے۔
ویسے بھی یہ حقیقت ہے کہ نسب کے اعتبارسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے افضل ہیں۔
اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
ہجرت کے بعد نصرت اسلام سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں اور انصار اسی وجہ سے بلند مقام تک پہنچے ہیں۔
2۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مجھے ہجرت کے باعث انصار پر فضیلت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا۔
3۔
بہرحال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان احادیث سے ثابت کیا ہے کہ جن احادیث میں لفظ (لَوْ)
کے استعمال کی ممانعت ہے وہ علی الاطلاق نہیں، اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اسے استعمال نہ کرتے۔
اس امتناعی حکم کے خاص مواقع ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
۔
اگر کسی کارخیر کا ارادہ کرے اور اسے کرنے کی ہمت بی ہوتو کسی دوسری چیز کی وجہ سے اس کی بجاآوری میں کوتاہی نہ کرے، وہاں اگر مگر کے استعمال سے اس میں کوتاہی نہ کرے۔
۔
اگرامور دنیا سے کوئی چیز فوت ہو جائے یا کسی مصیبت کی وجہ سے نقصان ہو جائے تو اس کے فیصلے اور اس کی تقدیر پر راضی رہے وہاں اگر مگر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتراض نہ کرے۔
اگر ان میں جھوٹ شامل ہو جائے تو انتہائی سنگین صورت اختیار کر جاتا ہےمثلاً:
منافقین نے ایک موقع پر کہا تھا:
”اگر ہم میں ہمت ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلتے۔
“ (التوبة: 43/9)
ایک دوسرے مقام پر یہ کہا:
”اگر وہ ہماری بات مانتے تو وہاں قتل نہ کیے جاتے۔
“ (آل عمران: 168)
ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر بے اعتمادی اور اپنی تدبیر پر بھروسا ثابت ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 282/13)
1۔
اس حدیث سے خاندانی نسب سے منتقل ہونا مراد نہیں کیونکہ خاندانی نسب دوسری طرف منتقل کرناحرام ہے۔
ویسے بھی یہ حقیقت ہے کہ نسب کے اعتبارسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے افضل ہیں۔
اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
ہجرت کے بعد نصرت اسلام سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں اور انصار اسی وجہ سے بلند مقام تک پہنچے ہیں۔
2۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مجھے ہجرت کے باعث انصار پر فضیلت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا۔
3۔
بہرحال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان احادیث سے ثابت کیا ہے کہ جن احادیث میں لفظ (لَوْ)
کے استعمال کی ممانعت ہے وہ علی الاطلاق نہیں، اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اسے استعمال نہ کرتے۔
اس امتناعی حکم کے خاص مواقع ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
اگر کسی کارخیر کا ارادہ کرے اور اسے کرنے کی ہمت بی ہوتو کسی دوسری چیز کی وجہ سے اس کی بجاآوری میں کوتاہی نہ کرے، وہاں اگر مگر کے استعمال سے اس میں کوتاہی نہ کرے۔
اگرامور دنیا سے کوئی چیز فوت ہو جائے یا کسی مصیبت کی وجہ سے نقصان ہو جائے تو اس کے فیصلے اور اس کی تقدیر پر راضی رہے وہاں اگر مگر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتراض نہ کرے۔
اگر ان میں جھوٹ شامل ہو جائے تو انتہائی سنگین صورت اختیار کر جاتا ہےمثلاً:
منافقین نے ایک موقع پر کہا تھا:
”اگر ہم میں ہمت ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلتے۔
“ (التوبة: 43/9)
ایک دوسرے مقام پر یہ کہا:
”اگر وہ ہماری بات مانتے تو وہاں قتل نہ کیے جاتے۔
“ (آل عمران: 168)
ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر بے اعتمادی اور اپنی تدبیر پر بھروسا ثابت ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 282/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7245]
يزيد بن حميد الضبعي ← أنس بن مالك الأنصاري