🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء فى إجازة خبر الواحد الصدوق فى الأذان والصلاة والصوم والفرائض والأحكام:
باب: ایک سچے شخص کی خبر پر اذان، نماز، روزے فرائض سارے احکام میں عمل ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7255
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد بن مہران نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر امت میں ایک امانت دار ہوتا ہے اور اس امت کے امانت دار ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← خالد الحذاء
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7255
لكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة
صحيح البخاري
3744
لكل أمة أمينا وإن أميننا أيتها الأمة أبو عبيدة بن الجراح
صحيح البخاري
4382
لكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح
صحيح مسلم
6252
لكل أمة أمينا وإن أميننا أيتها الأمة أبو عبيدة بن الجراح
صحيح مسلم
6253
هذا أمين هذه الأمة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7255 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7255
حدیث حاشیہ:
یہ ایمانداری اور امانت داری میں فردید تھے گو اور سب صحابہ بھی ایماندار اور دیانتدار تھے مگر ان کا درجہ اس خاص صفت میں بہت ہی بڑھا ہوا تھا جسے عثمان رضی اللہ عنہ کا درجہ حیا میں‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شجاعت میں۔
(رضي اللہ عنهم أجمعین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7255]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7255
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ایمان دار اور امانت دار تھے لیکن حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان داری اور امانت داری میں مزید اور بہت آگے بڑھے ہوئے تھے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیا میں اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہادری میں پیش پیش تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کی تعلیم کے لیے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خبر واحد حجت ہے اور اس کی حجت سے انکار صرف ان لوگوں کو ہے جن کے دلوں میں دین اسلام کے متعلق شکوک و شبہات ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7255]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6252
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"ہراُمت میں ایک امین ہے اورہمارا امین،اے امت،ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6252]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ کے ساتھیوں میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی مکارم اخلاق ودیعت فرمائے تھے،
لیکن بعض صفات میں بعض کو خصوصی امتیاز حاصل تھا،
حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح صفت امانت میں ممتاز تھے،
لیکن کسی ایک وصف میں امتیاز سے کلی طور پر برتری حاصل نہیں ہوتی،
اس میں مجموعی صفات کا لحاظ ہوتا ہے،
جن میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سب پر فائق تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6252]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4382
4382. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4382]
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسلام کی دعوت دی، سنایا پھر انہوں نے نہیں مانا آخر آپ نے فرمایا کہ آؤ ہم تم مباہلہ کرلیں یعنی دونوں فریق مل کر اللہ سے دعا کریں کہ یا اللہ! جو ہم میں سے ناحق پر ہو اس پر اپنا عذاب نازل کر۔
وہ مبا ہلہ کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے بلکہ اس شرط پر صلح کرلی کہ وہ ہزار جوڑے کپڑے رجب میں اور ہزار جوڑے صفر میں دیا کریں گے اور ہر جوڑے کے ساتھ ایک اوقیہ چاندی بھی دیں گے۔
قرآن کی آیت ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4382]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4382
4382. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4382]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ نے حضرت انس ؓ سے مروی حدیث اس لیے بیان کی ہے کہ اس کا سبب درود حضرت حذیفہ ؓ سے مروی حدیث ہے ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کی طرف حضرت علی ؓ کو بھیجا تھا تاکہ ان سے صدقات یا جزیہ وغیرہ وصول کر کے لائیں۔
(زاد المعاد: 557/3)
ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بھیجا ہو تا کہ ان سے صلح کا معاوضہ وصول کر کے لائیں، اس کے بعد حضرت علی ؓ کو روانہ کیا تاکہ جو عیسائی اپنے دین پر قائم ہیں ان سے جزیہ وصول کریں اور جو مسلمان ہو چکے ہیں ان سے صدقہ اور زکاۃ وغیرہ وصول کر کے لائیں۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فریق مخالف اگر دلائل حقہ کو نہ مانے بلکہ ان کا انکار کر دے تو اس سے مباہلہ کرنا مشروع ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اپنے ایک حریف کومباہلے کی دعوت دی تھی اور امام اوزاعی کو بھی ایک جماعت کے ساتھ مباہلہ کا موقع پیش آیا تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ مباہلہ کرنے والا باطل فریق ایک سال کے اندر اندر عذاب الٰہی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
مزید فرماتے ہیں۔
میرے ساتھ بھی ایک ملحد نے مباہلہ کیا تھا، وہ دوماہ کے اندر اندر ہلاک ہو گیا تھا۔
(فتح الباري: 119/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4382]