Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ما يكره من كثرة السؤال وتكلف ما لا يعنيه:
باب: بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7296
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ".
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان برابر سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ سوال کرے گا کہ یہ تو اللہ ہے، ہر چیز کا پیدا کرنے والا لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7296]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو طوالة
Newعبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥ورقاء بن عمر اليشكري، أبو بشر
Newورقاء بن عمر اليشكري ← عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة
👤←👥شبابة بن سوار الفزاري، أبو عمرو
Newشبابة بن سوار الفزاري ← ورقاء بن عمر اليشكري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن الصباح الواسطي، أبو علي
Newالحسن بن الصباح الواسطي ← شبابة بن سوار الفزاري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7296
لن يبرح الناس يتساءلون حتى يقولوا هذا الله خالق كل شيء فمن خلق الله
صحيح مسلم
351
أمتك لا يزالون يقولون ما كذا ما كذا حتى يقولوا هذا الله خلق الخلق فمن خلق الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7296 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7296
حدیث حاشیہ:
معاذ اللہ یہ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالے گا۔
دوسری روایت میں ہے کہ جب ایسا وسوسہ آئے تو أعوذ باللہ پڑھو یا آمنت باللہ کہو یا اللہ أحد اللہ الصمد اور بائیں طرف تھوکو اور أعوذ باللہ پڑھو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7296]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7296
حدیث حاشیہ:

بے جا تکلفات اور کثرت سوالات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ایسے سوالات پر دلیر ہوجاتا ہے جن سے اس کا ایمان تباہ ہوسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا غیر مخلوق ہونا ایک بدیہی امر ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا ڈھٹائی ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ انسان جب اس حد تک پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور اس خیال سے خود کو روک لے۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3276)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایسے شیطانی وسوسے کے وقت انسان کو چاہیے کہ اپنی بائیں جانب تین بارتھوک دے اور شیطان سے اللہ کی پ پناہ مانگے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4722)
ایک روایت میں ہے کہ (آمنت بالله)
پڑھے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 347 (134)
و سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4721)
نسائی کی روایت میں ہے کہ اس وقت (اللَّهُ أَحَدٌ۔
اللَّهُ الصَّمَدُ)
پڑھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ تینوں صفات انسان کو متنبہ کرتی ہیں کہ اللہ مخلوق نہیں ہے۔
(السنن الکبریٰ للنسائي، حدیث: 10497 وفتح الباري: 334/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7296]