🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب إثم من آوى محدثا:
باب: جو شخص بدعتی کو ٹھکانا دے، اس کو اپنے پاس ٹھہرائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7306
رَوَاهُ عَلِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
‏‏‏‏ اس کا بیان اس بات میں علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: Q7306]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7306
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟، قَالَ: نَعَمْ، مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا لَا يُقْطَعُ شَجَرُهَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ"، قَالَ عَاصِمٌ: فَأَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَوْ آوَى مُحْدِثًا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے؟ فرمایا کہ ہاں فلاں جگہ عیر سے فلاں جگہ (ثور) تک۔ اس علاقہ کا درخت نہیں کاٹا جائے گا جس نے اس حدود میں کوئی نئی بات پیدا کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ عاصم نے بیان کیا کہ پھر مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ یا کسی نے دین میں بدعت پیدا کرنے والے کو پناہ دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7306]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7306
ما بين كذا إلى كذا لا يقطع شجرها من أحدث فيها حدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7306 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7306
حدیث حاشیہ:
معاذاللہ بدعت سے آنحضڑت صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنی نفرت تھی کہ فرمایا جو کوئی بدعتی کو اپنے پاس اتارے جگہ دے‘ اس پر بھی لعنت‘ مسلمانو! اپنے پیغمبر صاحب کے فرمانے پر غور کرو بدعت سے اور بدعتیوں کی صحبت سے بچتے رہو اور ہر وقت سنت نبوی اور سنت پر چلنے والوں کے عاشق رہو۔
اگر کسی کام کے بدعت حسنہ یا سیئہ ہونے میں اختلاف ہو جیسے مجلس میلاد یا قیام وغیرہ تو اس سے بھی بچنا ہی افضل ہوگا‘ اس لیے کہ اس کا کرنا کچھ فرض نہیں ہے اور نہ کرنے میں احتیاط ہے۔
مسلمانو! تم بدعت کی طرف جاتے ہو یہ تمہاری نادانی ہے اگر آخرت کا ثواب چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ادنیٰ سنت پر عمل کر لو جیسے فجر کی سنت کے بعد ذرا سا لیٹ جانا اس میں ہزار مولود سے زیادہ تم کوثواب ملے گا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7306]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7306
حدیث حاشیہ:

اگرچہ اہل معاصی کو اپنے ہاں جگہ دینا ان کے گناہ میں شرکت کرنا ہے کیونکہ جو انسان کسی کے عمل سے راضی ہوتا ہے وہ انہی سے شمار ہوتا ہے لیکن مدینہ طیبہ کو اس وعید کے ساتھ خاص کیا گیا کیونکہ یہ شہر وحی اترنے کی جگہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن مالوف ہے۔
یہیں سے دین پھیلاہے۔
اس لیے مدینہ طیبہ کو دوسرے تمام شہروں سے برتری حاصل ہے۔

اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدعت سے کس قدر نفرت تھی۔
!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو کسی بدعتی کو اپنے ہاں جگہ دیتا ہے اس پر لعنت ہے۔
اس لیے ہمیں بدعت اور اہل بدعت سے دور ہی رہنا چاہیے۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7306]

Sahih Bukhari Hadith 7306 in Urdu