🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب قول الله تعالى: {يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالاته} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ المائدہ میں) فرمان ”اے رسول! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7530
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ مِنَ اللَّهِ الرِّسَالَةُ وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا التَّسْلِيمُ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالاتِ رَبِّهِمْ سورة الجن آية 28، وَقَالَ تَعَالَى: أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي سورة الأعراف آية 62، وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ حِينَ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ إِذَا أَعْجَبَكَ حُسْنُ عَمَلِ امْرِئٍ فَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ أَحَدٌ، وَقَالَ مَعْمَرٌ ذَلِكَ الْكِتَابُ هَذَا الْقُرْآنُ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ بَيَانٌ وَدِلَالَةٌ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ذَلِكُمْ حُكْمُ اللَّهِ سورة الممتحنة آية 10 هَذَا حُكْمُ اللَّهِ لَا رَيْبَ، لَا شَكَّ تِلْكَ آيَاتُ يَعْنِي هَذِهِ أَعْلَامُ الْقُرْآنِ وَمِثْلُهُ حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ يَعْنِي بِكُمْ، وَقَالَ أَنَسٌ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَهُ حَرَامًا إِلَى قَوْمِهِ، وَقَالَ: أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغُ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ.
‏‏‏‏ اور زہری نے کہا اللہ کی طرف سے پیغام بھیجنا اور اس کے رسول پر اللہ کا پیغام پہنچانا اور ہمارے اوپر اس کا تسلیم کرنا ہے۔ اور (سورۃ الجن) میں فرمایا «ليعلم أن قد أبلغوا رسالات ربهم‏» اس لیے کہ وہ پیغمبر جان لے کہ فرشتوں نے اپنے مالک کا پیغام پہنچا دیا۔ اور (سورۃ الاعراف) میں (نوح علیہ السلام اور ہود علیہ السلام کی زبانوں سے) فرمایا «أبلغكم رسالات ربي‏» میں تم کو اپنے مالک کے پیغامات پہنچاتا ہوں۔ اور کعب بن مالک جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے کہا عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام دیکھ لے گا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جب تجھ کو کسی کا کام اچھا لگے تو یوں کہہ کہ عمل کئے جاؤ اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارا کام دیکھ لیں گے، کسی کا نیک عمل تجھ کو دھوکا میں نہ ڈالے۔ اور معمر نے کہا (سورۃ البقرہ میں) یہ جو فرمایا «ذلك الكتاب‏» تو کتاب سے مراد قرآن ہے۔ «هدى للمتقين‏» وہ ہدایت کرنے والا ہے یعنی سچا راستہ بتانے والا ہے پرہیزگاروں کو۔ جیسے (سورۃ الممتحنہ) میں فرمایا «ذلكم حكم الله‏» یہ اللہ کا حکم ہے اس میں کوئی شک نہیں یعنی بلا شک یہ اللہ کی اتاری ہوئی آیات ہیں یعنی قرآن کی نشانیاں (مطلب یہ ہے کہ دونوں آیات میں «ذلك» سے «هذا» مراد ہے) اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے (سورۃ یونس میں) «وجرين بهم» سے «وجرين بكم» مراد ہے اور انس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں حرام بن ملحان کو ان کی قوم بنی عامر کی طرف بھیجا۔ حرام نے ان سے کہا کیا تم مجھ کو امان دو گے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام تم کو پہنچا دوں اور ان سے باتیں کرنے لگے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: Q7530]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7530
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بنُ عبْد اللهِ المُزَنيُّ، وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا، أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى الْجَنَّةِ".
ہم سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا، ان سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن عبیداللہ ثقفی نے بیان کیا، ان سے بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر بن حیہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (ایران کی فوج کے سامنے) کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے رب کے پیغامات میں سے یہ پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو (فی سبیل اللہ) قتل کیا جائے گا وہ جنت میں جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7530]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے رب کے پیغامات میں سے یہ پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے کوئی (اللہ کے راستے میں) قتل کیا جائے گا تو وہ جنت میں جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7530]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسىصحابي
👤←👥جبير بن حية الثقفي، أبو فرشاد
Newجبير بن حية الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
ثقة
👤←👥زياد بن جبير الثقفي
Newزياد بن جبير الثقفي ← جبير بن حية الثقفي
ثقة
👤←👥بكر بن عبد الله المزني، أبو عبد الله، أبو المليح
Newبكر بن عبد الله المزني ← زياد بن جبير الثقفي
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن عبيد الله الثقفي
Newسعيد بن عبيد الله الثقفي ← بكر بن عبد الله المزني
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سعيد بن عبيد الله الثقفي
ثقة
👤←👥عبد الله بن جعفر القرشي، أبو عبد الرحمن، أبو جعفر
Newعبد الله بن جعفر القرشي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة تغير بأخرة فلم يفحش اختلاطه
👤←👥الفضل بن يعقوب الرخامي، أبو العباس
Newالفضل بن يعقوب الرخامي ← عبد الله بن جعفر القرشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7530
من قتل منا صار إلى الجنة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7530 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7530
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث ایک طویل حدیث کا حصہ ہے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایرانی فوج کے سامنے پر جوش تقریر کی تھی۔
جب ایرانی کمانڈر نے پوچھا تھا کہ تم کون ہو اور تمہارا کیا مقصد ہے؟ مذکورہ اقتباس اس تقریر سے ہے جو حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کی تھی۔
(صحیح البخاري، الجزیة والموادعة، حدیث: 3159)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو امر، نہی، وعدہ، وعید اور گزشتہ اقوام کے حالات وواقعات آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے وہ کماحقہ ہم تک پہنچا دیے۔
پیغامات کا پہنچانا یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور عمل ہے اور یہ رسالت کے علاوہ ہے اور ابلاغ مخلوق ہے جبکہ رسالت اللہ تعالیٰ کے امرونہی پر مشتمل ہے۔
وہ اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7530]

Sahih Bukhari Hadith 7530 in Urdu