🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب وقت الجمعة إذا زالت الشمس:
باب: جمعہ کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 905
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كُنَّا نُبَكِّرُ بِالْجُمُعَةِ وَنَقِيلُ بَعْدَ الْجُمُعَةِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں حمید طویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے خبر دی۔ آپ نے فرمایا کہ ہم جمعہ سویرے پڑھ لیا کرتے اور جمعہ کے بعد آرام کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 905]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ جمعہ کے دن صبح سویرے نکلتے اور جمعہ سے فراغت کے بعد قیلولہ کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 905]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
905
نبكر بالجمعة ونقيل بعد الجمعة
صحيح البخاري
904
يصلي الجمعة حين تميل الشمس
جامع الترمذي
503
يصلي الجمعة حين تميل الشمس
سنن أبي داود
1084
يصلي الجمعة إذا مالت الشمس
سنن ابن ماجه
1102
نجمع ثم نرجع فنقيل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 905 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 905
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے وہی مذہب اختیار کیا جو جمہور کا ہے کہ جمعہ کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے کیونکہ وہ ظہر کا قائم مقام ہے بعض احادیث سے جمعہ قبل الزوال بھی جائز معلوم ہوتا ہے یہاں لفظ نبکر بالجمعة۔
یعنی صحابہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز کے لیے جلدی جایا کرتے تھے۔
(اس سے قبل الزوال کے لیے گنجائش نکلتی ہے)
اس کے بارے میں علامہ امام شوکانی مرحوم فرماتے ہیں۔
وَظَاهِرُ ذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ الْجُمُعَةَ بَاكِرَ النَّهَارِ.قَالَ الْحَافِظُ:
لَكِنَّ طَرِيقَ الْجَمْعِ أَوْلَى مِنْ دَعْوَى التَّعَارُضِ، وَقَدْ تَقَرَّرَ أَنَّ التَّبْكِيرَ يُطْلَقُ عَلَى فِعْلِ الشَّيْءِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهِ أَوْ تَقْدِيمِهِ عَلَى غَيْرِهِ وَهُوَ الْمُرَادُ هُنَا. وَالْمَعْنَى:
أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْدَءُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْقَيْلُولَةِ، بِخِلَافِ مَا جَرَتْ بِهِ عَادَتُهُمْ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الْحَرِّ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقِيلُونَ ثُمَّ يُصَلُّونَ لِمَشْرُوعِيَّةِ الْإِبْرَادِ۔
یعنی حدیث بالا سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جمعہ اول دن میں ادا کر لیا کر تے تھے۔
حافظ ابن حجرفرماتے ہیں کہ ہر دو احادیث میں تعارض پیدا کرنے سے بہتر یہ ہے کہ ان میں تطبیق دی جائے۔
یہ امر محقق ہے کہ تبکیر کا لفظ کسی کام کا اوّل وقت میں کرنے پر بولا جاتا ہے یا اس کا غیر پر مقدم کرنا۔
یہاں یہی مراد ہے معنی یہ ہواکہ وہ قیلولہ سے قبل جمعہ کی نماز پڑھ لیا کرتے تھے بخلاف ظہر کے کیونکہ گرمیوں میں ان کی عادت یہ تھی کہ پہلے قیلولہ کرتے پھر ظہر کی نماز ادا کرتے تا کہ ٹھنڈا وقت کرنے کی مشروعیت پر عمل ہو۔
مگر لفظ حین تمیل الشمس (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے پر جمعہ ادا فرمایا کرتے تھے)
پر علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
فیه إشعار بمواظبتة صلی اللہ علیه وسلم علی صلوة الجمعة إذا زالت الشمس۔
یعنی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ زوال شمس کے بعد نماز جمعہ ادا فرمایا کرتے تھے۔
امام بخاری ؒ اور جمہور کا مسلک یہی ہے، اگر چہ بعض صحابہ اور سلف سے زوال سے پہلے بھی جمعہ کا جواز منقول ہے مگر امام بخاری ؒ کے نزدیک ترجیح اسی مسلک کو حاصل ہے۔
ایسا ہی علامہ عبد الرحمن مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں:
والظاھر المعول علیه ھو ما ذھب إلیه الجمھور من أنه لا تجوز الجمعة إلا بعد زوال الشمس وإماما ذھب إلیه بعضھم من أنھا تجوز قبل الزوال فلیس فیه حدیث صحیح صریح واللہ أعلم۔
(تحفة الأحوذی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 905]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:905
حدیث حاشیہ:
(1)
پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی پڑھا کرتے تھے جبکہ دوسری حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آپ نماز جمعہ صبح صبح پڑھ لیتے تھے لیکن احادیث میں تعارض پیدا کرنے کے بجائے ان میں تطبیق کی صورت پیدا کرنی چاہیے، چنانچہ تبکیر کے دو معنی ہیں:
ایک کسی کام کو جلدی کرنا اور دوسرا کسی کام کو صبح صبح سر انجام دینا۔
اس مقام پر پہلا معنی مقصود ہے، یعنی اسے دوسرے کاموں سے پہلے جلدی ادا کر لیتے تھے اور قیلولہ نماز جمعہ کے بعد کرتے لیکن نماز ظہر میں پہلے قیلولہ کرتے، پھر نماز پڑھتے تھے، گویا امام بخاری ؒ نے پہلی روایت سے دوسری روایت کی تفسیر بیان کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ان احادیث کے درمیان کوئی تعارض نہیں۔
(فتح الباري: 498/2) (2)
ایک روایت میں ہے کہ ہم لوگ دوپہر کا کھانا اور قیلولہ نماز جمعہ کے بعد کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، الجمعة، حدیث: 939)
اس روایت سے بھی نماز جمعہ قبل از زوال پڑھنے پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ دوپہر کے کھانے اور قیلولہ کرنے کا وقت قبل از زوال ہے۔
اس کے متعلق حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ اس روایت سے قبل از زوال نماز پڑھنے کا استدلال صحیح نہیں کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ ہم لوگ نماز سے قبل جمعہ کی تیاری کرتے، انتظار نماز، پھر ادائے نماز کی وجہ سے ہمارے روزانہ کے معمولات بدل جاتے تھے، یعنی قبل از زوال معلوم ہوتا ہے کیونکہ اپنی عادت کے مطابق وہ زوال سے پہلے کھانے کے بعد قیلولہ کرتے تھے لیکن جمعہ کے متعلق صحابی نے خبر دی ہے کہ ہم لوگ جمعہ کے لیے تیاری اور مصروفیت کی وجہ سے طعام اور قیلولہ مؤخر کر دیتے تھے، یعنی انہیں نماز جمعہ کے بعد سر انجام دیتے تھے۔
(فتح الباري: 550/2)
مختصر یہ ہے کہ جمعہ کے دن دوپہر کا کھانا اور قیلولہ نماز کے بعد کرنے کی صورت یہ نہ تھی کہ زوال سے پہلے نماز پڑھ لیتے اور اپنے روزانہ کے معمولات کے مطابق کھانا اور قیلولہ بھی اپنے وقت پر زوال سے پہلے کرتے تھے بلکہ اس کی صورت یہ تھی کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم صبح ہی سے نماز جمعہ کی تیاری میں لگ جاتے، مسجد میں جا کر نماز جمعہ کا انتظار کرتے اور اس سے فراغت کے بعد گھروں میں پہنچ کر کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے جو روزانہ کے معمول سے مؤخر ہوتا تھا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 905]

Sahih Bukhari Hadith 905 in Urdu