🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب فضل العمل فى أيام التشريق:
باب: ایام تشریق میں عمل کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q969
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ أَيَّامُ الْعَشْرِ وَالْأَيَّامُ الْمَعْدُودَاتُ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا وَكَبَّرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ خَلْفَ النَّافِلَةِ.
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (اس آیت) اور اللہ تعالیٰ کا ذکر معلوم دنوں میں کرو میں ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں اور «اأيام المعدودات» سے مراد ایام تشریق ہیں۔ ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں بازار کی طرف نِکل جاتے اور لوگ ان بزرگوں کی تکبیر (تکبیرات) سن کر تکبیر کہتے اور محمد بن باقر رحمہ اللہ نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: Q969]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ، قَالُوا: وَلَا الْجِهَادُ، قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے سلیمان کے واسطے سے بیان کیا، ان سے مسلم بطین نے، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان (دس) دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں۔ لوگوں نے پوچھا اور جہاد میں بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جہاد میں بھی نہیں سوا اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرہ میں ڈال کر نکلا اور واپس آیا تو ساتھ کچھ بھی نہ لایا (سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥مسلم بن أبي عبد الله البطين، أبو عبد الله
Newمسلم بن أبي عبد الله البطين ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن أبي عبد الله البطين
ثقة حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن عرعرة القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله، أبو عمرو
Newمحمد بن عرعرة القرشي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
969
ما العمل في أيام العشر أفضل منها في هذه ولا الجهاد إلا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشيء
جامع الترمذي
757
ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الأيام العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
سنن أبي داود
2438
ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني أيام العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
سنن ابن ماجه
1727
ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
المعجم الصغير للطبراني
1191
ما من أيام العمل فيهن أفضل من عشر ذي الحجة ، قالوا : ولا الجهاد فى سبيل الله ؟ ، قال : ولا الجهاد فى سبيل الله إلا من عقر جواده وأهريق دمه
المعجم الصغير للطبراني
1193
ما من عمل أحب إلى الله عز وجل من عمل فى عشر ذي الحجة ، إلا رجل يخرج بماله ونفسه ، ثم لا يرجع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 969 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 969
حدیث حاشیہ:
اور ایک حنفی فتوی!ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں عبادت سال کے تمام دنوں کی عبادت سے بہتر ہے۔
کہا گیا ہے کہ ذی الحجہ کے دن تمام دنوں میں سب سے زیادہ افضل ہیں اور رمضان کی راتوں میں سے سب سے افضل ہیں۔
ذی الحجہ کے ان دس دنوں کی خاص عبادت جس پر سلف کا عمل تھا تکبیر کہنا اور روزے رکھنا ہے۔
اس عنوان کی تشریحات میں ہے کہ ابو ہریرہ ؓ اور ابن عمر ؓ جب تکبیر کہتے تو عام لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہتے تھے اور تکبیر میں مطلوب بھی یہی ہے کہ جب کسی کہتے ہوئے کو سنیں تو ارد گرد بھی آدمی ہو ں سب بلند آواز سے تکبیر کہیں (تفہیم البخاری)
عام طور پر برادران احناف نویں تاریخ سے تکبیر شروع کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ خود ان کے علماءکی تحقیق کے مطابق ان کا یہ طرز عمل سلف کے عمل کے خلاف ہے۔
جیسا کہ یہاں صاحب تفہیم البخاری دیوبندی حنفی نے صاف لکھا ہے کہ ذی الحجہ کے ان دس دنوں میں تکبیر کہنا سلف کا عمل تھا (اللہ نیک توفیق دے)
آمین۔
بلکہ تکبیروں کا سلسلہ ایام تشریق میں بھی جاری ہی رہنا چاہیے جو گیارہ سے تیرہ تاریخ تک کے دن ہیں۔
تکبیر کے الفاظ یہ ہیں:
اللہ أکبر اللہ أکبر لا إله إلا اللہ واللہ أکبر اللہ أکبر وللہ الحمد اور یوں بھی مروی ہیں:
اللہ أکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرة وأصیلا.
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 969]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:969
حدیث حاشیہ:
(1)
اہل لغت اور اہل فقہ کے نزدیک قربانی کے دن، یعنی دسویں ذوالحجہ کے بعد ایام تشریق شروع ہوتے ہیں، لیکن تشریق کی وجہ تسمیہ کا تقاضا ہے کہ دسویں ذوالحجہ کو ایام تشریق میں شامل کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ تسمیہ کے متعلق تین اقوال ہیں:
٭ گوشت کاٹ کر دھوپ میں ڈالا جاتا تھا تاکہ وہ خشک ہو جائے۔
٭ نماز عید دن چڑھے پڑھتے تھے، اس لیے اس تشریق کہا جاتا ہے۔
٭ دور جاہلیت میں مشرکین کہتے تھے کہ اے سورج! جلدی طلوع ہو تاکہ ہم قربانی کریں۔
ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل یوم تشریق تو عید کا دن ہے اور باقی دنوں کو اس کی ماتحتی میں ایام تشریق میں شامل کیا گیا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کے نزدیک اس روایت میں ایام سے مراد ایام تشریق ہیں اور ان دنوں کے عمل سے مراد اللہ أکبر کہنا اور ذکر الٰہی کرنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ نے تکبیرات کہنے کے متعلق مختلف آثار کا حوالہ دیا ہے۔
لیکن دیگر صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایام سے مراد ایام عشر ہیں، تو بھی مطابقت اس طرح ہے کہ امام بخاری ؒ کے نزدیک دسویں تاریخ ایام تشریق سے ہے، اس لیے ایک دن کے اعتبار سے عنوان ثابت ہوتا ہے۔
(3)
حافظ ابن حجرؒ نے عنوان سے مطابقت کے لیے ایک دوسرا پہلو اختیار کیا ہے کہ ذوالحجہ کے دس دنوں کی فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ ان میں افعال حج ادا ہوتے ہیں اور کچھ افعال حج ایام تشریق میں ادا کیے جاتے ہیں، اس لیے اصل فضیلت میں ایام تشریق، ایام عشر کے ساتھ اشتراک رکھتے ہیں، پھر ایام عشر کا خاتمہ ایام تشریق کا افتتاحیہ ہے، اس بنا پر ان ایام کی فضیلت ہے اور یہی امام بخاری ؒ کا مقصود ہے۔
(فتح الباري: 592/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 969]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2438
عشرہ ذی الحجہ کے روزہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پا سکتا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2438]
فوائد ومسائل:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں میں روزے رکھنے اور دیگر اعمال صالحہ کی انتہائی فضیلت ہے۔
رمضان کے آخری عشرہ اور عشرہ ذی الحجہ میں تقابلی طور پر علماء اس طرح بیان کرتے ہیں عشرہ رمضان کی راتیں افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلة القدر آتی ہے اور عشرہ ذی الحجہ کے دن افضل ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2438]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1727
سنیچر کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1727]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
  رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل ایا م ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں
(2)
نفل روزوں میں ذوالحجہ کے پہلے نو ایا م کے روزے سے زیادہ افضل ہیں ان میں سے ذوالحجہ کا روزہ زیا دہ افضل ہے
(3)
ان افضل ایا م میں انجام دیا جا نے والا ہر عمل دوسرے ایا م سے زیا دہ ثواب کا با عث ہے اس سے ثا بت ہوا کہ ان ایا م کا روزہ بھی دوسر ے ایا م کے روزوں سے افضل ہے البتہ دس ذوالحجہ کا روزہ رکھنا جا ئز نہیں اس لئے پہلے عشرہ کے روزوں سے مرا د پہلے نو دن کے روزے ہیں
(4)
ان ایام میں کیا ہوا جہاد دوسرے ایا م کے جہاد سے افضل ہے صحا بہ کرام کے سوال (وَلَا الْجِھَادَ فِی سَبِیْلِ اللہِ)
سے پتہ چلا کہ جہاد دوسری نیکیوں سے افضل عبادت ہے اسی طرح اس حدیث کے عموم سے یہ با ت بھی ثا بت ہو تی ہے کہ ان مبارک ایام میں کیا ہوا کوئی بھی عمل دیگر ایام میں کیے ہو ئے عمل یا جہاد سے افضل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1727]

Sahih Bukhari Hadith 969 in Urdu