الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
شراب پینے والے کی حد اور نشہ آور چیزوں کا بیان
حدیث نمبر: 1067
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا تقام الحدود في المساجد» رواه الترمذي والحاكم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مسجدوں میں حدود نہ لگائی جائیں۔“ (ترمذی و مستدرک حاکم) [بلوغ المرام/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الديات، باب ما جاء في الرجل يقتل ابنه يقاد منه أم لا، حديث:1401، والحاكم:4 /369.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1401
| لا تقام الحدود في المساجد ولا يقتل الوالد بالولد |
سنن ابن ماجه |
2599
| لا تقام الحدود في المساجد |
بلوغ المرام |
201
| لا تقام الحدود في المساجد ، ولا يستقاد فيها |
بلوغ المرام |
1067
| لا تقام الحدود في المساجد |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 1067 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1067
تخریج:
«أخرجه الترمذي، الديات، باب ما جاء في الرجل يقتل ابنه يقاد منه أم لا، حديث:1401، والحاكم:4 /369.» تشریح:
1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
تفصیلی بحث سے انھی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل:۷ /۲۷۲‘ ۲۷۴‘ ۳۶۳‘ والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۲۴ /۳۴۴‘ ۴۴۶) 2. اس حدیث کی رو سے مساجد میں حدود قائم نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ مساجد صرف اللہ کی عبادت و بندگی کے لیے ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول کی جگہیں ہیں۔
ایسی پاکیزہ اور رحمت کی جگہوں پر اگر حدود کا اجراء کیا جائے تو اندیشہ ہے کہ خون بہہ نکلنے یا پیشاب پاخانہ نکل جانے کی وجہ سے ان کی بے حرمتی ہو۔
«أخرجه الترمذي، الديات، باب ما جاء في الرجل يقتل ابنه يقاد منه أم لا، حديث:1401، والحاكم:4 /369.»
1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
تفصیلی بحث سے انھی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل:۷ /۲۷۲‘ ۲۷۴‘ ۳۶۳‘ والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۲۴ /۳۴۴‘ ۴۴۶) 2. اس حدیث کی رو سے مساجد میں حدود قائم نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ مساجد صرف اللہ کی عبادت و بندگی کے لیے ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول کی جگہیں ہیں۔
ایسی پاکیزہ اور رحمت کی جگہوں پر اگر حدود کا اجراء کیا جائے تو اندیشہ ہے کہ خون بہہ نکلنے یا پیشاب پاخانہ نکل جانے کی وجہ سے ان کی بے حرمتی ہو۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1067]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 201
مساجد کا بیان
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی ان میں قصاص (خون کا بدلہ) لیا جائے۔“ اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 201]
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی ان میں قصاص (خون کا بدلہ) لیا جائے۔“ اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 201]
201لغوی تشریح:
«لا تقام» «إقامة» سے ماخوذ ہے، یعنی (حدیں) نافذ نہ کی جائیں۔
«الحدود» وہ سزائیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے کہ فلاں جرم کی سزا فلاں ہے۔
«ولا يستقاد» صیغہ مجہول۔ قصاص نہ لیا جائے۔
«بسند ضعيف» ضعیف سند، یعنی یہ حدیث ضعیف ہے لیکن خود مصنف، یعنی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے التلخیص میں اس کی سند کے بارے میں «لا بأس بإسناد» ”اس کی سند میں کوئی حرج نہیں“ کہا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ مذکورہ روایت کو فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے، بنابریں اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجدوں میں حدیں قائم نہ کی جائیں اور قصاص بھی نہ لیا جائے کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ سزا پانے والے کا خون یا گندگی پیٹ سے خارج ہو جائے یا مسجد میں شور و غوغا ہو۔
➋ مسجد میں فیصلے کے لیے عدالت قائم کی جا سکتی ہے۔
راوی حدیث:
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، حزام کی ”حا“ کے نیچے کسرہ ہے۔ ان کی کنیت ابوخالد ہے۔ قریش کے قبیلہ بنو اسد سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھانجے ہیں۔ اشراف قریش میں شمار ہوتے تھے۔ واقعہ فیل سے 13 سال پہلے خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا۔ 54 ہجری میں یا اس کے بعد مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر 120 برس تھی۔
«لا تقام» «إقامة» سے ماخوذ ہے، یعنی (حدیں) نافذ نہ کی جائیں۔
«الحدود» وہ سزائیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے کہ فلاں جرم کی سزا فلاں ہے۔
«ولا يستقاد» صیغہ مجہول۔ قصاص نہ لیا جائے۔
«بسند ضعيف» ضعیف سند، یعنی یہ حدیث ضعیف ہے لیکن خود مصنف، یعنی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے التلخیص میں اس کی سند کے بارے میں «لا بأس بإسناد» ”اس کی سند میں کوئی حرج نہیں“ کہا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ مذکورہ روایت کو فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے، بنابریں اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجدوں میں حدیں قائم نہ کی جائیں اور قصاص بھی نہ لیا جائے کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ سزا پانے والے کا خون یا گندگی پیٹ سے خارج ہو جائے یا مسجد میں شور و غوغا ہو۔
➋ مسجد میں فیصلے کے لیے عدالت قائم کی جا سکتی ہے۔
راوی حدیث:
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، حزام کی ”حا“ کے نیچے کسرہ ہے۔ ان کی کنیت ابوخالد ہے۔ قریش کے قبیلہ بنو اسد سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھانجے ہیں۔ اشراف قریش میں شمار ہوتے تھے۔ واقعہ فیل سے 13 سال پہلے خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا۔ 54 ہجری میں یا اس کے بعد مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر 120 برس تھی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 201]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1401
آدمی اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو کیا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجدوں میں حدود نہیں قائم کی جائیں گی اور بیٹے کے بدلے باپ کو (قصاص میں) قتل نہیں کیا جائے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1401]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجدوں میں حدود نہیں قائم کی جائیں گی اور بیٹے کے بدلے باپ کو (قصاص میں) قتل نہیں کیا جائے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1401]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
لیکن شواہد کی بنا پر حدیث حسن ہے۔
وضاحت: 1 ؎:
لیکن شواہد کی بنا پر حدیث حسن ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1401]