🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(قضاء کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1188
عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏القضاة ثلاثة: اثنان في النار وواحد في الجنة: رجل عرف الحق فقضى به فهو في الجنة ورجل عرف الحق فلم يقض به وجار في الحكم فهو في النار ورجل لم يعرف الحق فقضى للناس على جهل فهو في النار» ‏‏‏‏ رواه الأربعة وصححه الحاكم.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی کی تین اقسام ہیں دو دوزخی ہیں اور ایک جنتی۔ ایک وہ شخص جس نے حق کو پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا وہ جنتی ہے اور دوسرا وہ جس نے حق کی پہچان کر لی مگر فیصلہ حق کے ساتھ نہ دیا۔ بلکہ فیصلہ میں ظلم کیا وہ دوزخی ہے اور تیسرا وہ جس نے نہ حق کو پہچانا نہ حق کے ساتھ فیصلہ کیا بلکہ اس نے لوگوں میں جہالت و نادانی سے فیصلہ کیا وہ بھی دوزخی ہے۔ اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1188]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، القضاء، باب في القاضي يخطيء، حديث:3573، والترمذمي، الأحكام، حديث:1322م، وابن ماجه، الأحكام، حديث:2315، والنسائي، في الكبرٰي:3 /462، حديث:5922، والحاكم:4 /90.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1322
القضاة ثلاثة قاضيان في النار وقاض في الجنة رجل قضى بغير الحق فعلم ذاك فذاك في النار وقاض لا يعلم فأهلك حقوق الناس فهو في النار وقاض قضى بالحق فذلك في الجنة
سنن أبي داود
3573
القضاة ثلاثة واحد في الجنة واثنان في النار فأما الذي في الجنة فرجل عرف الحق فقضى به ورجل عرف الحق فجار في الحكم فهو في النار ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار
سنن ابن ماجه
2315
القضاة ثلاثة اثنان في النار وواحد في الجنة رجل علم الحق فقضى به فهو في الجنة ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار ورجل جار في الحكم فهو في النار لقلنا إن القاضي إذا اجتهد فهو في الجنة
بلوغ المرام
1188
القضاة ثلاثة : اثنان في النار وواحد في الجنة : رجل عرف الحق فقضى به فهو في الجنة ورجل عرف الحق فلم يقض به وجار في الحكم فهو في النار ورجل لم يعرف الحق فقضى للناس على جهل فهو في النار
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 1188 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1188
تخریج:
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب في القاضي يخطيء، حديث:3573، والترمذمي، الأحكام، حديث:1322م، وابن ماجه، الأحكام، حديث:2315، والنسائي، في الكبرٰي:3 /462، حديث:5922، والحاكم:4 /90.»
تشریح:
1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس پر سیرحاصل بحث کی ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل:۸ /۲۳۵.۲۳۷‘ رقم: ۲۶۱۴) 2. اس حدیث میں عدالت میں فیصلہ کرنے والوں کی اقسام بیان ہوئی ہیں جنھیں قاضی یا جج کہا جاتا ہے۔
ان میں سے دو قسم کے قاضی تو ایسے ہیں جو دوزخ کا ایندھن بننے والے ہیں۔
ایک حق کو نہ جاننے اور پہچاننے والا اور دوسرا حق کو جان پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا۔
اس میں اس کی بددیانتی کو بھی دخل ہو سکتا ہے اور تفتیش و تحقیق میں سستی اور بے پروائی بھی ہو سکتی ہے۔
اور دوزخ سے بچنے والا قاضی وہ ہے جو حق کو پہچان کر حق دار کو اس کا حق دیتا ہے۔
کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتا۔
3. اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جاہل شخص کو عہدہ قضا پر بٹھانا درست نہیں۔
4.کسی بھی متنازعہ مسئلے کا فیصلہ نمٹانے کے لیے حق معلوم کرنا اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کرنا فرض اور واجب ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1188]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3573
قاضی (جج) سے فیصلہ میں غلطی ہو جائے تو کیسا ہے؟
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے۔‏‏‏‏ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی تین قاضیوں والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3573]
فوائد ومسائل:
فائدہ: جانتے بوجھتے حق کے خلاف فیصلہ دینا اور جاہل ہوتے ہوئے لوگوں میں فیصلے کرنے بیٹھ جانا، دونوں صورتوں میں اپنے آپ کو جہنم میں جھونکنا ہے۔
لہذا واجب ہے کہ یہ منصب اصحاب علم اور اصحاب عزیمت ہی کے سپرد کیا جائے اور وہ بھی جرءت سے کام لیں اور جنت کے حقدار بنیں جبکہ ان لوگوں کے پس منظرمیں رہنے سے ظالم ظلم کرتے ہیں۔
اور جہالت کا غلبہ اور اس کی اشاعت ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3573]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2315
اجتہاد کر کے صحیح فیصلہ تک پہنچنے والے حاکم کے اجر و ثواب کا بیان۔
ابوہاشم کہتے ہیں کہ اگر ابن بریدہ کی یہ روایت نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہیں: ان میں سے دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی، ایک وہ جس نے حق کو معلوم کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا، تو وہ جنت میں جائے گا، دوسرا وہ جس نے لوگوں کے درمیان بغیر جانے بوجھے فیصلہ دیا، تو وہ جہنم میں جائے گا، تیسرا وہ جس نے فیصلہ کرنے میں ظلم کیا (یعنی جان کر حق کے خلاف فیصلہ دیا) تو وہ بھی جہنمی ہو ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2315]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1)
  مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ان کے نزدیک یہ ورایت قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کی تحقیق میں کافی شافی بحث کی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے:
(الإرواء: 8/ 235، رقم: 2614)
بنابریں جج کا عہدہ بہت بڑی ذمے داری کا حامل ہے۔

(2)
  جج کے لیے ضروری ہے کہ فیصلہ کرنے وقت اسے یقین ہو کہ صحیح بات یہ ہے پھر اس کے مطابق فیصلہ کرے۔

(3)
  سرسری سماعت کے بعد فیصلہ دے دینا جب کہ معاملے کی پوری طرح چھان بین کرکے حق معلوم نہ کیا گیا ہو جائز نہیں۔

(4)
جب یقین ہو جائے کہ حق فلاں فریق کا ہے پھر فیصلہ دوسرے کے حق میں دے دیا جائے یہ ظلم ہے اور اس کی سزا جہنم ہے۔
اس نا انصافی کی وجہ بعض اوقات کوئی وقتی دنیوی مفاد ہوتا ہے۔
یہ مفاد رشوت میں شامل ہے جس کی وجہ سے لعنت پڑتی ہے۔ (دیکھیے حدیث: 2313)

(5)
اجتہادی غلطی معاف ہونے کے باوجود حق تبدیل نہیں ہوتا اس لیے جب معلوم ہو جائے کہ غلطی ہو گئی ہے تو قاضی یا مجتہد کو اپنے فیصلے یا فتوے سے رجوع کر لینا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2315]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1322
قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات۔
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نے ابن عمر رضی الله عنہما سے کہا: جاؤ (قاضی بن کر) لوگوں کے درمیان فیصلے کرو، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے معاف رکھیں گے، عثمان رضی الله عنہ نے کہا: تم اسے کیوں برا سمجھتے ہو، تمہارے باپ تو فیصلے کیا کرتے تھے؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو قاضی ہوا اور اس نے عدل انصاف کے ساتھ فیصلے کئے تو لائق ہے کہ وہ اس سے برابر سرابر چھوٹ جائے (یعنی نہ ثواب کا مستحق ہو نہ عقاب کا)، اس کے بعد میں (بھلائی کی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1322]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبد الملک بن ابی جمیلہ مجہول ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1322]