بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
شرائط نماز کا بیان
حدیث نمبر: 176
وعن علي قال: كان لي من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مدخلان فكنت إذا أتيته وهو يصلي تنحنح لي.رواه النسائي وابن ماجه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے میرے دو اوقات تھے جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے ہوتے تو مجھے مطلع کرنے کے لیے کھنکار دیتے۔ (نسائی، ابن ماجہ) [بلوغ المرام/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي، السهو، باب التنحنح في الصلاة، حديث:1212، وابن ماجه، الأدب، حديث:3708.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1212
| إذا أتيته استأذنت إن وجدته يصلي فتنحنح دخلت وإن وجدته فارغا أذن لي |
سنن النسائى الصغرى |
1213
| إذا دخلت بالليل تنحنح لي |
سنن النسائى الصغرى |
1214
| إن تنحنح انصرفت إلى أهلي وإلا دخلت عليه |
سنن ابن ماجه |
3708
| إذا أتيته وهو يصلي يتنحنح لي |
بلوغ المرام |
176
| مدخلان فكنت إذا اتيته وهو يصلي تنحنح لي |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 176 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 176
� لغوی تشریح:
«مَدْخَلَانِ» ”میم“ اور ”خا“ دونوں پر فتحہ اور درمیان میں واقع ”دال“ ساکن ہے۔ آپ کی خدمت میں حاضری کے دو اوقات۔
«تَنَحْنُحِ» حلق میں آواز کو گردش دینا۔ کھنکھارنا۔
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز میں ضرورت کے وقت ایسی آواز نکالنا جس میں حروف کی ادائیگی نہ ہو نماز کے لیے موجب فساد نہیں۔
«مَدْخَلَانِ» ”میم“ اور ”خا“ دونوں پر فتحہ اور درمیان میں واقع ”دال“ ساکن ہے۔ آپ کی خدمت میں حاضری کے دو اوقات۔
«تَنَحْنُحِ» حلق میں آواز کو گردش دینا۔ کھنکھارنا۔
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز میں ضرورت کے وقت ایسی آواز نکالنا جس میں حروف کی ادائیگی نہ ہو نماز کے لیے موجب فساد نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 176]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1214
نماز میں کھکھارنے کا بیان۔
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» ”اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو“ اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1214]
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» ”اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو“ اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1214]
1214۔ اردو حاشیہ: محقق کتاب نے پہلی دو روایتوں کو صحیح اور تیسری کو حسن قرار دیا ہے لیکن دیگر محققین کے نزدیک یہ حکم محل نظر ہے کیونکہ یہ روایات اولاً منقطع، ثانیاً سنداً و متنا مضطرب ہیں، لہٰذا تینوں روایات ضعیف ہیں۔ ان روایات کا مدار عبداللہ بن نجی پر ہے جو کہ متکلم فیہ راوی ہے۔ یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: عبداللہ بن نجی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نہیں سنی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 14/225]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1214]
Bulughul Maram Hadith 176 in Urdu