🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نماز عیدین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 387
وعن أنس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات. أخرجه البخاري. وفي رواية معلقة ووصلها أحمد: ويأكلهن أفرادا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر کیلئے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرمایا کرتے تھے اور طاق عدد میں کھجوریں کھایا کرتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور ایک معلق روایت میں بھی ایسا ہے اور احمد نے موصول روایت میں ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کھجوروں کو ایک ایک کر کے تناول فرماتے تھے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 387]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العيدين، باب الأكل يوم الفطرقبل الخروج، حديث:953، وأحمد:3 /126، 232، وابن ماجه، الصيام، حديث:1754، وابن خزيمة، حديث:1429.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
953
لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات
جامع الترمذي
543
يفطر على تمرات يوم الفطر قبل أن يخرج إلى المصلى
سنن ابن ماجه
1754
لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم تمرات
بلوغ المرام
387
لا يغدو يوم الفطر حتى ياكل تمرات
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 387 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 387
تخریج:
«أخرجه البخاري، العيدين، باب الأكل يوم الفطرقبل الخروج، حديث:953، وأحمد:3 /126، 232، وابن ماجه، الصيام، حديث:1754، وابن خزيمة، حديث:1429.»
تشریح:
اس حدیث سے کئی مسائل ثابت ہوتے ہیں: 1. نماز عید کے لیے باہر جانا مسنون ہے۔
2.نماز عیدالفطر کے لیے جانے سے پہلے طاق عدد میں کھجوریں کھانی مسنون ہیں۔
3. کھجوروں کو ایک ایک کر کے کھانا چاہیے۔
ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ زیادہ کھجوریں منہ میں ٹھونس لی جائیں۔
یہ تہذیب و اخلاق کے منافی ہے۔
اگر کسی کو کھجوریں دستیاب نہ ہو سکیں تو پھر کوئی بھی چیز کھائی جا سکتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
4.کھجوروں کو ایک ایک کر کے کھانے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ آدمی حریص و لالچی نہ بنے‘ نیز اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر ہی کو پسند کرتا ہے۔
طبی اعتبار سے بھی ایک ایک کو خوب اچھی طرح چبا چبا کر لعاب دہن شامل کر کے نگلنا چاہیے تاکہ نظام انہضام میں معاون و مددگار ثابت ہو۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 387]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1754
عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1754]
اردو حاشہ:
فائدہ:
عیدالفطر کے لئے روانہ ہو نے سے پہلے کچھ کھا لینا مسنون ہے تا کہ روزے کے ایام سے فرق ہو جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1754]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 953
953. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن جب تک چند کھجوریں تناول نہ فرما لیتے نماز کے لیے نہ جاتے تھے۔ حضرت انس ؓ ہی سے ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طاق عدد میں کھجوریں کھاتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:953]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ عید الفطر میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں اگر میسر ہوں تو کھا لینا سنت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 953]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:953
953. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن جب تک چند کھجوریں تناول نہ فرما لیتے نماز کے لیے نہ جاتے تھے۔ حضرت انس ؓ ہی سے ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طاق عدد میں کھجوریں کھاتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:953]
حدیث حاشیہ:
(1)
محدثین نے عید الفطر کے موقع پر نماز سے پہلے کچھ کھانے کی حکمت اس طرح بیان کی ہے کہ جس اللہ کے حکم سے رمضان کے پورے مہینہ میں کھانا پینا بند رہا، آج جب اس کی طرف سے دن میں کھانے کا اذن ملا اور اس میں اس کی رضا اور خوشنودی معلوم ہوئی تو محتاج بندے کی طرح صبح ہوتے ہی اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا اہتمام کیا جائے، پھر اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کا انتخاب کرتے تھے کہ کھجور کا ایمان کے ساتھ گہرا تعلق ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اس مناسبت کا ذکر ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقع پر نماز سے پہلے تین، پانچ یا سات یا اس سے کم و بیش طاق مقدار میں کھجوریں استعمال کرتے تھے۔
(2)
طاق کے استعمال میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف اشارہ ہے۔
(3)
اگر کھجور میسر نہ ہو تو شربت نوش کرنا بھی صحیح ہے۔
(فتح الباري: 2/ 577-
578)
اگر گھر میں میسر نہ آئے تو راستے میں یا عید گاہ پہنچ کر بھی کھا پی لے۔
بہرحال اس کا ترک ناپسندیدہ عمل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 953]