🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب نواقض الوضوء
وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 76
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏يأتي أحدكم الشيطان في صلاته فينفخ في مقعدته،‏‏‏‏ فيخيل إليه أنه أحدث،‏‏‏‏ ولم يحدث،‏‏‏‏ فإذا وجد ذلك فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا» ‏‏‏‏. أخرجه البزار. وأصله في الصحيحين من حديث عبد الله بن زيد.ولمسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه نحوه. وللحاكم عن أبي سعيد مرفوعا: «‏‏‏‏إذا جاء أحدكم الشيطان،‏‏‏‏ فقال: إنك أحدثت،‏‏‏‏ فليقل: كذبت» .‏‏‏‏ وأخرجه ابن حبان بلفظ:«‏‏‏‏فليقل في نفسه» .‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز میں تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور اس کی مقعد میں پھونک مارتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال ڈالا جاتا ہے کہ وہ بےوضو ہو گیا ہے حالانکہ وہ بےوضو نہیں ہوا ہوتا لہٰذا تم میں سے جب کوئی ایسا محسوس کرے تو ریح کے خارج ہونے کی آواز سننے یا اس کی بدبو پانے تک نماز سے نہ پھرے۔
اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی اصل بخاری میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موجود ہے۔ مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان جیسے ہی الفاظ مروی ہیں۔ اور حاکم نے ابوسعید رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آئے اور ذہن میں وسواس ڈالے کہ تو بےوضو ہو گیا تو یہ شخص اسے جواب میں کہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ اس کو ابن حبان نے ان الفاظ سے روایت کیا ہے کہ وہ شخص اپنے دل میں کہے کہ تو جھوٹا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 76]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» بیشک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «قَالَ» فرمایا: – «يَأْتِي» آتا ہے – «أَحَدَكُمُ» تم میں سے کسی کے پاس – «الشَّيْطَانُ» شیطان – «فِي» میں – «صَلَاتِهِ» اس کی نماز – «فَيَنْفُخُ» پھر وہ پھونک مارتا ہے – «فِي» میں – «مَقْعَدَتِهِ» اس کی سرین (بیٹھنے کی جگہ) – «فَيُخَيَّلُ» پس خیال ڈالا جاتا ہے – «إِلَيْهِ» اس کی طرف (اسے) – «أَنَّهُ» کہ بیشک اس نے – «أَحْدَثَ» حدث کیا ہے (ہوا خارج کی ہے) – «وَلَمْ يُحْدِثْ» حالانکہ اس نے حدث نہیں کیا ہوتا – «فَإِذَا» پس جب – «وَجَدَ» وہ پائے – «ذَلِكَ» یہ (شک) – «فَلَا يَنْصَرِفْ» تو وہ نہ لوٹے (نماز نہ توڑے) – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَسْمَعَ» وہ سن لے – «صَوْتًا» آواز – «أَوْ» یا – «يَجِدَ» پا لے – «رِيحًا» بو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا ہے – «الْبَزَّارُ» بزار نے۔ – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي» میں (ہے) – «الصَّحِيحَيْنِ» صحیحین (بخاری و مسلم) – «مِنْ» سے – «حَدِيثِ» حدیث – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ» عبداللہ بن زید۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کے لیے (کی روایت میں) ہے – «عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «نَحْوَهُ» اسی طرح (اسی کے مثل)۔ – «وَلِلْحَاكِمِ» اور حاکم کے لیے (کی روایت میں) ہے – «عَنْ» سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً: – «إِذَا» جب – «جَاءَ» آئے – «أَحَدَكُمُ» تم میں سے کسی کے پاس – «الشَّيْطَانُ» شیطان – «فَقَالَ» اور کہے: – «إِنَّكَ» بیشک تو نے – «أَحْدَثْتَ» حدث کیا ہے (وضو توڑا ہے) – «فَلْيَقُلْ» تو چاہیے کہ وہ کہے: – «كَذَبْتَ» تو نے جھوٹ کہا۔ – «وَأَخْرَجَهُ» اور اسے نکالا ہے – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «بِلَفْظِ» ساتھ الفاظ کے: – «فَلْيَقُلْ» چاہیے کہ وہ کہے – «فِي» میں – «نَفْسِهِ» اپنے دل (نفس)۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس نماز میں شیطان آتا ہے اور اس کی سرین پر پھونک مارتا ہے، پس اسے یہ خیال گزرتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، حالانکہ اس کا وضو نہیں ٹوٹا ہوتا۔ پس جب کسی کو ایسا (شک) محسوس ہو تو وہ (نماز سے) نہ لوٹے یہاں تک کہ آواز سن لے یا بو محسوس کر لے۔ اسے بزار نے روایت کیا ہے، اور اس کی اصل صحیحین میں سیدنا عبداللہ بن زید کی حدیث سے ہے۔ اور مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے۔ اور حاکم کی روایت میں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آئے اور کہے: تو نے وضو توڑ دیا ہے، تو وہ کہے: تو نے جھوٹ کہا۔ اور اسے ابن حبان نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: پس وہ اپنے دل میں کہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار (كشف الاستار):1 / 147، حديث:281 واللفظ له، حديث عبدالله بن زيد: أخرجه البخاري، الوضوء، حديث: 137، ومسلم، الطهارة، حديث: 361، حديث أبي هريرة: أخرجه مسلم، الطهارة، حديث: 362، حديث أبي سعيد: أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1029، وابن حبان(الموارد)، حديث:1187، صحيحه الحاكم علي شرط الشيخين:1 /324، ووافقه الذهبي.»

الحكم على الحديث: حسن


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
137
لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
صحيح البخاري
177
لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
صحيح البخاري
2056
الرجل يجد في الصلاة شيئا أيقطع الصلاة قال لا حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
صحيح مسلم
804
لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
سنن أبي داود
176
لا ينفتل حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
سنن النسائى الصغرى
160
لا ينصرف حتى يجد ريحا أو يسمع صوتا
سنن ابن ماجه
513
الرجل يجد الشيء في الصلاة فقال لا حتى يجد ريحا أو يسمع صوتا
صحيح ابن خزيمة
25
لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
بلوغ المرام
76
يأتي أحدكم الشيطان في صلاته فينفخ في مقعدته ،‏‏‏‏ فيخيل إليه أنه أحدث ،‏‏‏‏ ولم يحدث ،‏‏‏‏ فإذا وجد ذلك فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
مسندالحميدي
417
لا ينفتل حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
Bulughul Maram Hadith 76 in Urdu