بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (أحاديث في النكاح)
(نکاح کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 841
وعن ابن عباس رضي الله عنهما: أن جارية بكرا أتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم، فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة، فخيرها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه، وأعل بالإرسال.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے جب کہ اسے ناپسند تھا (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مرسل ہونے کی بنا پر معلول کہا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 841]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «جَارِيَةً» ایک لڑکی – «بِكْرًا» کنواری – «أَتَتِ» آئی – «النَّبِيَّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَذَكَرَتْ» تو اس نے بتایا – «أَنَّ أَبَاهَا» کہ اس کے باپ نے – «زَوَّجَهَا» اس کا نکاح کر دیا ہے – «وَهِيَ كَارِهَةٌ» حالانکہ وہ ناپسند کرتی ہے – «فَخَيَّرَهَا» تو اسے اختیار دے دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَأُعِلَّ» اور اسے معلول قرار دیا گیا – «بِالْإِرْسَالِ» مرسل ہونے کی وجہ سے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کر دیا ہے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اسے مرسل ہونے کی علت سے معلول کہا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 841]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کر دیا ہے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اسے مرسل ہونے کی علت سے معلول کہا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 841]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.»
الحكم على الحديث:
حسن
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2096
| جارية بكرا أتت النبي فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة فخيرها النبي |
سنن ابن ماجه |
1875
| جارية بكرا أتت النبي فذكرت له أن أباها زوجها وهي كارهة فخيرها النبي |
المعجم الصغير للطبراني |
496
| رد نكاح بكر وثيب أنكحهما أبواهما وهما كارهتان |
سنن النسائى الصغرى |
2826
| رده عليه |
بلوغ المرام |
841
| جارية بكرا اتت النبي فذكرت ان اباها زوجها وهي كارهة |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 841 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 841
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.» تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اگرچہ ولی ہے لیکن اگر وہ لڑ کی کے اذن اور مشورے کے بغیر اس کا نکاح کرتا ہے تو لڑکی کو شرعاً اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ اس نکاح سے ناخوش ہے تو اسے فسخ کر دے۔
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.»
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اگرچہ ولی ہے لیکن اگر وہ لڑ کی کے اذن اور مشورے کے بغیر اس کا نکاح کرتا ہے تو لڑکی کو شرعاً اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ اس نکاح سے ناخوش ہے تو اسے فسخ کر دے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 841]
Bulughul Maram Hadith 841 in Urdu