🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
طلاق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 920
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة» .‏‏‏‏ رواه الأربعة إلا النسائي وصححه الحاكم وفي رواية لابن عدي من وجه آخر ضعيف: «‏‏‏‏الطلاق والنكاح والعتاق» .‏‏‏‏وللحارث بن أبي أسامة من حديث عبادة بن الصامت رفعه: «‏‏‏‏لا يجوز اللعب في ثلاث: الطلاق والنكاح والعتاق فمن قالهن فقد وجبن» .‏‏‏‏ وسنده ضعيف.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین امور ایسے ہیں کہ ان کی سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور ان کا مذاق بھی سنجیدگی ہے۔ نکاح، طلاق اور رجوع کرنا۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے بجز نسائی کے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابن عدی کی ایک دوسری ضعیف روایت میں ہے طلاق، آزادی اور نکاح۔ اور حارث بن ابی اسامہ کی روایت جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوع مروی ہے، میں ہے تین چیزوں میں مذاق کرنا جائز نہیں طلاق، نکاح اور آزادی۔ جو آدمی ان امور کو مذاق سے بھی کہے گا تو وہ واجب ہو جائیں گے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 920]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في الطلاق علي الهزل، حديث:2194، والترمذي، الطلاق، حديث:1184، وابن ماجه، الطلاق، حديث:2039، والحاكم:2 /198، وصححه الحاكم فتعقبه الذهبي بقوله: "عبدالرحمن بن حبيب بن أردك فيه لين" قلت: هو حسن الحديث علي الراجح فالتعقب مردود، وحديث "الطلاق والعتاق والنكاح" أخرجه ابن عدي في الكامل:6 /2033 وسنده ضعيف جدًا. غالب بن عبيدالله الجزري متروك. وحديث "لا يجوز اللعب في ثلاث "رواه الحارث بن أبي أسامة (بغية الباعث:503) وسنده ضعيف. ابن لهيعة ضعيف مدلس.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1184
ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة
سنن أبي داود
2194
ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة
سنن ابن ماجه
2039
ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة
بلوغ المرام
920
ثلاث جدهن جد وهزلهن جد : النكاح والطلاق والرجعة