🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. باب العفو عن الخادم
خادم سے درگزر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏:‏ يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ لَبِيبٌ، فَلْيَخْدُمْكَ‏.‏ قَالَ‏:‏ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُ‏:‏ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا‏؟‏ وَلاَ قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ‏:‏ أَلاَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا‏؟‏‏.‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی خادم نہیں تھا، چنانچہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے نبی! انس بڑا ذہین و فطین اور ہوشیار بچہ ہے، لہٰذا یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے وفات تک حضر وسفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میرے کسی (نامناسب) کام پر یہ نہیں کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ میرے کسی کام کے سر انجام نہ دینے پر یہ کہا کہ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، الوصايا، باب استخدام اليتيم فى السفر و الحضر: 2768، 6038 و مسلم: 2309»
قال الشيخ الألباني: صحيح


الادب المفرد کی حدیث نمبر 164 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 164
فوائد ومسائل:
یہ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق کی واضح دلیل ہے۔ ایک روایت میں حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ نے کبھی مجھے اف بھی نہیں کہا (صحیح مسلم، حدیث:۲۳۰۹)، نیز امت کے لیے راہنمائی ہے کہ وہ ماتحتوں کے ساتھ کیسا سلوک کریں۔ یہ رویہ ذاتی خدمت میں کوتاہی کے حوالے سے ہونا چاہیے شرعی امور کے بارے میں کوتاہی پر ڈانٹ ڈپٹ اور محاسبہ نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ہے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 164]

Al Adab al Mufrad Hadith 164 in Urdu