الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
123. باب العفو والصفح عن الناس
لوگوں سے درگزر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 245
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ.“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو سکھاؤ، آسانی کا برتاؤ کرو اور تنگی نہ کرو۔ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہو جائے۔“ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 2136 و ابن أبى شيبة: 532/8 و الطيالسي: 2608 و الطبراني فى الكبير: 10951 - الصحيحة: 1375»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 245 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 245
فوائد ومسائل:
(۱)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو دینی احکام اور ضروری مسائل کی تعلیم دو کیونکہ جہالت سے انسان کی شخصیت گہنا جاتی ہے۔ اور اس معاملے میں لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرو اور بے جا سختی نہ کرو یا دوران تعلیم جن مسائل میں وسعت ہے ان میں تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کرو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ عام لین دین اور برتاؤ میں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو کیونکہ جو دنیا میں مسلمانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور ان کی مشکلات دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی پریشانیاں دور کرے گا۔
(۲) غصہ شیطان کی طرف سے ہے۔ دوران خون تیز ہونے کی وجہ سے شیطان اس کیفیت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور انسان کوئی ایسا اقدام کر بیٹھتا ہے جو بعد ازاں ندامت کا باعث بن جاتا ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے پر کنٹرول کرنے کا حل بتایا ہے کہ انسان خاموش ہو جائے تاکہ انتقام کا جذبہ ٹھنڈا پڑ جائے۔ ایک دوسری حدیث میں غصے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَعُوْذ باللّٰہِ من الشیطان الرجیم پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
(۱)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو دینی احکام اور ضروری مسائل کی تعلیم دو کیونکہ جہالت سے انسان کی شخصیت گہنا جاتی ہے۔ اور اس معاملے میں لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرو اور بے جا سختی نہ کرو یا دوران تعلیم جن مسائل میں وسعت ہے ان میں تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کرو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ عام لین دین اور برتاؤ میں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو کیونکہ جو دنیا میں مسلمانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور ان کی مشکلات دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی پریشانیاں دور کرے گا۔
(۲) غصہ شیطان کی طرف سے ہے۔ دوران خون تیز ہونے کی وجہ سے شیطان اس کیفیت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور انسان کوئی ایسا اقدام کر بیٹھتا ہے جو بعد ازاں ندامت کا باعث بن جاتا ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے پر کنٹرول کرنے کا حل بتایا ہے کہ انسان خاموش ہو جائے تاکہ انتقام کا جذبہ ٹھنڈا پڑ جائے۔ ایک دوسری حدیث میں غصے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَعُوْذ باللّٰہِ من الشیطان الرجیم پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 245]
Al Adab al Mufrad Hadith 245 in Urdu