پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. باب حسن الخلق إذا فقهوا
دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے کے لیے حسن اخلاق
حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”تَدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ؟“ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ”الأَجْوَفَانِ: الْفَرْجُ وَالْفَمُ، وَأَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو لوگوں کو کیا چیز زیادہ آگ میں لے جائے گی؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں شرمگاہ اور منہ، اور جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ دخول جنت کا باعث ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه ابن ماجه، كتاب الزهد، باب ذكر الذنوب: 4246 - الصحيحة: 977»
قال الشيخ الألباني: حسن
الادب المفرد کی حدیث نمبر 289 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 289
فوائد ومسائل:
(۱)آپ نے سوالیہ انداز اس لیے اختیار کیا کہ لوگوں کو یہ بات راسخ ہو جائے اور وہ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں۔
(۲) زبان کا معاملہ نہایت حساس ہے۔ لوگوں کی اکثریت جہنم میں اسی زبان کی کارستانیوں کی وجہ سے جائے گی۔ آپ نے زبان پر کنٹرول کو اخروی نجات کی بنیاد قرار دیا ہے۔ آپ نے زبان کو جب تمام امور کی اساس قرار دیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا اور بارگاہ نبوی میں عرض کیا:
((وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِهِ؟))
”اور کیا کلام پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہو جائے گا؟“
آپ نے فرمایا:
((ثَکِلَتْكَ أمُّكَ یَا مُعَاذُ وَهَلْ یَکُبُّ النَّاسَ في النَّارِ عَلَی وُجُوهِهِمْ أوْ عَلَی مَنَاخِرِهِمْ اِلاَّ حَصَائِدُ ألْسِنَتِهِمْ))(جامع الترمذي، الایمان، حدیث:۲۶۱۶)
”اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ ان کی زبانوں کی کارستانیاں ہی تو گرائیں گی۔
اسی طرح دوسرا بڑا سبب انسان کی شہوات ہیں جو دوزخ میں لے جائیں گی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بدکاری اور اس کے عوامل سے دور رہنے کا حکم دیا ہے اور یہ اتنا شدید گناہ ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ اس کا مرتکب ہو تو اسے رجم کرنے کا حکم ہے اور اگر توبہ نصوح نہ کی اور حد بھی نہ لگی تو آخرت میں جہنم کی سزا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے کامیاب ہونے والے مومنوں کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور جو شخص قدرت رکھتے ہوئے محض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے بدکاری ترک کر دے اللہ تعالیٰ نے اسے روز قیامت اپنے عرش کا سایہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔
(۳) دخول جنت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والا ہو۔ تقویٰ ہوگا تو انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی کو بجا لائے گا اور حسن خلق سے اشارہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ حسن معاملہ کرنے والا اور ان کے حقوق ادا کرنے والا ہے۔ گویا یہ دونوں صفات پہلی جہنم والی دو صفات کے برعکس ہیں۔
زبان کی حفاظت نہیں ہوگی تو دوزخ اور اگر ہوگی تو وہ حسن اخلاق ہے جو دخول جنت کا باعث ہے۔ شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنے والا تقوے سے عاری ہے اس لیے اس کا انجام دوزخ ہے اور اگر تقویٰ ہے تو پھر جنت آسان ہو جائے گی۔
(۱)آپ نے سوالیہ انداز اس لیے اختیار کیا کہ لوگوں کو یہ بات راسخ ہو جائے اور وہ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں۔
(۲) زبان کا معاملہ نہایت حساس ہے۔ لوگوں کی اکثریت جہنم میں اسی زبان کی کارستانیوں کی وجہ سے جائے گی۔ آپ نے زبان پر کنٹرول کو اخروی نجات کی بنیاد قرار دیا ہے۔ آپ نے زبان کو جب تمام امور کی اساس قرار دیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا اور بارگاہ نبوی میں عرض کیا:
((وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِهِ؟))
”اور کیا کلام پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہو جائے گا؟“
آپ نے فرمایا:
((ثَکِلَتْكَ أمُّكَ یَا مُعَاذُ وَهَلْ یَکُبُّ النَّاسَ في النَّارِ عَلَی وُجُوهِهِمْ أوْ عَلَی مَنَاخِرِهِمْ اِلاَّ حَصَائِدُ ألْسِنَتِهِمْ))(جامع الترمذي، الایمان، حدیث:۲۶۱۶)
”اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ ان کی زبانوں کی کارستانیاں ہی تو گرائیں گی۔
اسی طرح دوسرا بڑا سبب انسان کی شہوات ہیں جو دوزخ میں لے جائیں گی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بدکاری اور اس کے عوامل سے دور رہنے کا حکم دیا ہے اور یہ اتنا شدید گناہ ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ اس کا مرتکب ہو تو اسے رجم کرنے کا حکم ہے اور اگر توبہ نصوح نہ کی اور حد بھی نہ لگی تو آخرت میں جہنم کی سزا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے کامیاب ہونے والے مومنوں کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور جو شخص قدرت رکھتے ہوئے محض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے بدکاری ترک کر دے اللہ تعالیٰ نے اسے روز قیامت اپنے عرش کا سایہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔
(۳) دخول جنت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والا ہو۔ تقویٰ ہوگا تو انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی کو بجا لائے گا اور حسن خلق سے اشارہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ حسن معاملہ کرنے والا اور ان کے حقوق ادا کرنے والا ہے۔ گویا یہ دونوں صفات پہلی جہنم والی دو صفات کے برعکس ہیں۔
زبان کی حفاظت نہیں ہوگی تو دوزخ اور اگر ہوگی تو وہ حسن اخلاق ہے جو دخول جنت کا باعث ہے۔ شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنے والا تقوے سے عاری ہے اس لیے اس کا انجام دوزخ ہے اور اگر تقویٰ ہے تو پھر جنت آسان ہو جائے گی۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 289]
Al Adab al Mufrad Hadith 289 in Urdu