🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب التورع عن الجواب فيما ليس فيه كتاب ولا سنة:
ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 115
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ: مَا أَشَدَّ عَلَيَّ أَنْ تُسْأَلَ عَنْ الشَّيْءِ لَا يَكُونُ عِنْدَكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ إِمَامًا، قَالَ: "إِنَّ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ مَنِ عَقَلَ عَنْ اللَّهِ أَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، أَوْ أَرْوِيَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ".
یحییٰ نے کہا میں نے قاسم سے کہا: میرے اوپر بڑا شاق گزرتا ہے آپ سے کوئی سوال کیا جائے اور آپ اس سے لاعلمی کا اظہار کریں حالانکہ آپ کے والد امام وقت تھے۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کے اور اس کے نزدیک جسے اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقل و سمجھ ہے اس سے بھی زیادہ شاق اور شدید (سخت امر) یہ ہے کہ میں بنا علم فتویٰ دوں یا غیر ثقہ راوی سے کچھ روایت کروں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 115] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ محمد بن کثیر کی وجہ سے، لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [مقدمة صحيح مسلم 16/1] ، [معرفة السنن والآثار 141/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 113 سے 115)
اس سے معلوم ہوا کہ: انہیں کسی سوال کے جواب میں «لا ادري» یا «لا اعلم» یعنی مجھے اس کا علم نہیں کہنے میں کوئی عار نہ تھا، حالانکہ وہ بھی اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اورفقیہ تھے، اس سے ان کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
نیز غیر ثقہ راوی سے حدیث روایت کرنے کی کراہت بھی معلوم ہوتی ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمنثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن كثير الثقفي، أبو يوسف
Newمحمد بن كثير الثقفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
مقبول
Sunan Darmi Hadith 115 in Urdu