سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب كراهية الخروج من المسجد بعد النداء:
اذان کے بعد مسجد سے نکلنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1239
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَأَى رَجُلًا خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ:"أَمَّا هَذَا، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے دیکھا تو کہا: اس نے ابوقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو الشعثاء هو: سليم بن الأسود، [مكتبه الشامله نمبر: 1241] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 655] ، [أبوداؤد 536] ، [ترمذي 204] ، [نسائي 682] ، [ابن ماجه 733] ، [ابن حبان 2062] ، [الحميدي 1028]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 655] ، [أبوداؤد 536] ، [ترمذي 204] ، [نسائي 682] ، [ابن ماجه 733] ، [ابن حبان 2062] ، [الحميدي 1028]
وضاحت: (تشریح حدیث 1238)
یعنی اذان دینے کے بعد بلا عذرِ شرعی مسجد سے نکلنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور یہ فعل مکروہ ہے۔
یعنی اذان دینے کے بعد بلا عذرِ شرعی مسجد سے نکلنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور یہ فعل مکروہ ہے۔
الرواة الحديث:
سليم بن أسود المحاربي ← أبو هريرة الدوسي