یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ما يستحب من تأخير العشاء:
عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1246
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قَرِيبُهُ، فَجَاءَ وَفِي النَّاسُ رُقَّدٌ، وَهُمْ عِزُونَ، وَهُمْ حِلَقٌ، فَغَضِبَ، فَقَالَ: "لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَدَى النَّاسَ وَقَالَ عَمْرٌو: نَدَبَ النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ، لَأَجَابُوا إِلَيْهِ، وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، لَهَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا لِيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَتَخَلَّفَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ تقر یباً رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے لگا، پھر آپ تشریف لائے اس حال میں کہ نمازی ٹولیوں اور حلقوں میں بیٹھے اونگھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفا ہوتے ہوئے فرمایا: ”اگر کوئی آدمی لوگوں کو ایک ہڈی یا دو کھر کے واسطے بلائے تو وہ دوڑے آئیں، لیکن اس نماز سے (عشاء کی نماز) وہ پیچھے رہ جاتے ہیں، میں نے ارادہ کر لیا کہ کسی شخص سے کہوں کہ وہ نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے گھروں کی طرف جاؤں جو نماز (جماعت) سے پیچھے رہ جاتے ہیں، اور ان پر ان کے گھروں میں آگ لگا دوں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1248] »
اس سند و سیاق سے یہ حدیث حسن کے درجے میں ہے، لیکن اس کی اصل صحیحین میں موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 644] ، [مسلم 651] ، [مسند أبى يعلی 6338] ، [صحيح ابن حبان 2096] ، [مسند الحميدي 986]
اس سند و سیاق سے یہ حدیث حسن کے درجے میں ہے، لیکن اس کی اصل صحیحین میں موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 644] ، [مسلم 651] ، [مسند أبى يعلی 6338] ، [صحيح ابن حبان 2096] ، [مسند الحميدي 986]
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← أبو صالح السمان | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← عاصم بن أبي النجود الأسدي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عمرو بن عاصم القيسي، أبو عثمان عمرو بن عاصم القيسي ← حماد بن سلمة البصري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد الحجاج بن المنهال الأنماطي ← عمرو بن عاصم القيسي | ثقة |
Sunan Darmi Hadith 1246 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي