سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب كراهية الجهر بـ {بسم الله الرحمن الرحيم}:
نماز میں جہراً بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہنے پر کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1274
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَانُوا "يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: بِهَذَا نَقُولُ، وَلَا أَرَى الْجَهْرَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر و عثمان رضی اللہ عنہم سب ہی نماز میں قرأت «الحمد لله رب العالمين» سے شروع کرتے تھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہی ہم کہتے ہیں اور میں «بسم الله الرحمٰن الرحيم» جہراً کہنا درست نہیں سمجھتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1276] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 743] ، [مسلم 399] ، [مسند أبى يعلی 2881] ، و [ابن حبان 1798]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 743] ، [مسلم 399] ، [مسند أبى يعلی 2881] ، و [ابن حبان 1798]
وضاحت: (تشریح حدیث 1273)
جب «الحمد للّٰه رب العالمين» سے سب قرأت شروع کرتے تو بسم اللہ يقیناً سرّاً کہتے ہوں گے، لہٰذا صحیح یہ ہے کہ بسم اللہ سرّاً پڑھی جائے اور قرأت «الحمد للّٰه رب العالمين» سے ہی شروع کی جائے، اور اگر کبھی کبھار جہراً بھی بسم اللہ کہی جائے تو کوئی حرج نہیں، بعض صحابہ سے ایسا کرنا بھی ثابت ہے۔
بعض لوگ نماز میں سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ جہراً پڑھنا لازمی قرار دیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے، مذکورہ بالا حدیث ان کے قول کے سراسر خلاف ہے۔
والله اعلم
جب «الحمد للّٰه رب العالمين» سے سب قرأت شروع کرتے تو بسم اللہ يقیناً سرّاً کہتے ہوں گے، لہٰذا صحیح یہ ہے کہ بسم اللہ سرّاً پڑھی جائے اور قرأت «الحمد للّٰه رب العالمين» سے ہی شروع کی جائے، اور اگر کبھی کبھار جہراً بھی بسم اللہ کہی جائے تو کوئی حرج نہیں، بعض صحابہ سے ایسا کرنا بھی ثابت ہے۔
بعض لوگ نماز میں سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ جہراً پڑھنا لازمی قرار دیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے، مذکورہ بالا حدیث ان کے قول کے سراسر خلاف ہے۔
والله اعلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة مأمون |
Sunan Darmi Hadith 1274 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري