🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب الرخصة فيه:
قے کرنے پر رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1767
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا ذَرَعَ الصَّائِمَ الْقَيْءُ وَهُوَ لَا يُرِيدُهُ، فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَإِذَا اسْتَقَاءَ، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ". قَالَ عِيسَى: زَعَمَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنَّ هِشَامًا أَوْهَمَ فِيهِ , فَمَوْضِعُ الْخِلَافِ هَهُنَا.
سیدنا ابوہريرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب روزے دار کو خود بخود قے آ جائے تو اس پر کوئی قضا نہیں، اور قصداً قے کرے تو اس پر قضاء ہے۔ عیسیٰ بن یونس نے کہا: اہل بصرہ کا خیال ہے کہ اس حدیث میں ہشام بن حسان کو وہم ہوا ہے جو اختلاف کا سبب ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1770] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 2380] ، [ترمذي 720] ، [ابن ماجه 1676] ، [أبويعلی 6604] ، [ابن حبان 3518] ، [الموارد 907] ۔ اہلِ بصرہ کا قول مردود ہے کیونکہ ہشام بن حسان ثقات اور اثبات میں سے ہیں، ابن سیرین سے روایت کرنے میں وہ اثبت الناس ہیں، لہٰذا یہ حدیث اور اس کا حکم بالکل صحیح ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة مأمون
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة حافظ إمام
Sunan Darmi Hadith 1767 in Urdu