سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب كم صلاة تصلى بمنى حتى يغدو إلى عرفات:
عرفات جانے سے پہلے منیٰ میں کتنی نمازیں پڑھنی چاہئیں؟
حدیث نمبر: 1911
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے قتادہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی نماز منیٰ میں پڑھیں پھر تھوڑی دیر نیند لی اور سوار ہو کر خانہ کعبہ گئے اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1915] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1764] ، [أبويعلی 5694]
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1764] ، [أبويعلی 5694]
وضاحت: (تشریح حدیث 1910)
اس طواف سے مراد غالباً طوافِ وداع ہے جیسا کہ امام بخاری کے باب «مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْأَبْطَحِ» سے معلوم ہوتا ہے، نیز باب طواف الوداع (1757) میں بھی امام بخاری نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
اس طواف سے مراد غالباً طوافِ وداع ہے جیسا کہ امام بخاری کے باب «مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْأَبْطَحِ» سے معلوم ہوتا ہے، نیز باب طواف الوداع (1757) میں بھی امام بخاری نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
الرواة الحديث:
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري