سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب فضل الحلق على التقصير:
مردوں کے لئے بال چھوٹے کرنے کے بجائے بال منڈانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1944
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ قَالَ: "رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ". قِيلَ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:"رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ". قَالَ فِي الرَّابِعَةِ:"وَالْمُقَصِّرِينَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی رحمت ہو سر منڈانے والوں پر“، عرض کیا گیا: اور تقصیر کروانے والوں پر بھی؟ فرمایا: ”اللہ کی رحمت ہو سر منڈانے والوں پر“، جب چوتھی مرتبہ بال کتروانے والوں کے لئے عرض کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اللہ کی رحمت ہو بال کتروانے والوں پر بھی۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1944]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1948] »
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1727] ، [مسلم 1301] ، [ترمذي 913] ، [ابن حبان 3880]
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1727] ، [مسلم 1301] ، [ترمذي 913] ، [ابن حبان 3880]
وضاحت: (تشریح حدیث 1943)
اس حدیث میں بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال منڈوانے والوں کے لئے دعا فرمائی۔
بخاری کی ایک روایت میں دو بار، ایک روایت میں تین بار اور یہاں مذکور بالا روایت میں بھی ہے کہ تین بار حلق کرنے والوں پر رحمت کی دعا اور چوتھی بار تقصیر کرانے والوں کے لئے دعا فرمائی، اس سے حج و عمرہ میں بال منڈانے والوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، قرآن پاک میں بھی ان کو مقدم رکھا گیا ہے: «﴿مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ .....﴾ [الفتح: 27] » لہٰذا تقصیر (بال کتروانا) جائز تو ہے لیکن افضل حلق ہے۔
واضح رہے کہ تقصیر میں پورے سر کے بال کتروانے چاہئیں، اِدھر اُدھر سے دو چار بال کتروانا درست نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث میں بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال منڈوانے والوں کے لئے دعا فرمائی۔
بخاری کی ایک روایت میں دو بار، ایک روایت میں تین بار اور یہاں مذکور بالا روایت میں بھی ہے کہ تین بار حلق کرنے والوں پر رحمت کی دعا اور چوتھی بار تقصیر کرانے والوں کے لئے دعا فرمائی، اس سے حج و عمرہ میں بال منڈانے والوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، قرآن پاک میں بھی ان کو مقدم رکھا گیا ہے: «﴿مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ .....﴾ [الفتح: 27] » لہٰذا تقصیر (بال کتروانا) جائز تو ہے لیکن افضل حلق ہے۔
واضح رہے کہ تقصیر میں پورے سر کے بال کتروانے چاہئیں، اِدھر اُدھر سے دو چار بال کتروانا درست نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان عبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري | ثقة |
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي