یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما يجزئ من الضحايا:
قربانی کے لئے کتنی عمر کا جانور کافی ہے
حدیث نمبر: 1992
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَأَصَابَنِي جَذَعٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا صَارَتْ لِي جَذَعَةً، فَقَالَ:"ضَحِّ بِهِ".
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا؟ فرمایا: ”اسی کی قربانی کر دو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1996] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5547] ، [مسلم 1965] ، [ترمذي 1500] ، [نسائي 4392] ، [أبويعلی 1758] ، [ابن حبان 5898]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5547] ، [مسلم 1965] ، [ترمذي 1500] ، [نسائي 4392] ، [أبويعلی 1758] ، [ابن حبان 5898]
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1992 in Urdu
بعجة بن عبد الله الجهني ← عقبة بن عامر الجهني