🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما يجزئ من الضحايا:
قربانی کے لئے کتنی عمر کا جانور کافی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1993
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا أَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَسَمْتُهَا وَبَقِيَ مِنْهَا عَتُودٌ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:"ضَحِّ بِهِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: الْعَتُودُ: الْجَذَعُ مِنْ الْمَعْزِ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صحابہ کرام کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے (قربانی کی) بکریاں عطا کیں، چنانچہ میں نے انہیں تقسیم کر دیا، ان میں سے ایک سال سے کم کا ایک بچہ بچا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کی قربانی کر دو۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «عتود» بکری کے بچے کو کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1997] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ تخریج اوپر گزر چکی ہے۔ نیز دیکھئے: [بخاري 5555، 4300] ، [ابن ماجه 3138]
وضاحت: (تشریح احادیث 1991 سے 1993)
قربانی کے لئے بکرا دانتا ہوا مسنۃ ہونا چاہئے، چھوٹے بچے کی قربانی جائز نہیں، پہلی حدیث میں جذع کا لفظ ہے اس کی تشریح عتود سے ہو جاتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ بکری کا بچہ ایک سال کا ہونا چاہئے، کیونکہ روایتِ صحیحہ میں ہے کہ یہ حکم صرف سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کے لئے تھا۔
جذع عربی میں ایسے جانور کو کہتے ہیں جو جوان و قوی ہو گیا ہو اس لئے پانچ سال کے اونٹ کو جذع کہا جاتا ہے، گائے اور بکری کے اس بچے کو جذع کہتے ہیں جو ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں لگ جائے، اور بھیڑ میں جذع وہ ہے جس کی عمر ایک سال ہو یا کچھ کم، اور گائے میں بعض نے کہا جذع وہ ہے جو تیسرے سال میں لگ جائے۔
بعض علماء نے بھیڑ کے چھ مہینے کے بچے کی قربانی کی اجازت دی ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ بھیڑ بکری ہر ایک میں دانتا ہوا جانور ہو یا ایک سال کا ہو گیا ہو۔
کیونکہ حدیث ہے: «لَا تَذْبَحُوْا إِلَّا مُسِنَّةً.» تم قربانی کرو دنتے ہوئے جانور کی۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥مرثد بن عبد الله اليزني، أبو الخير
Newمرثد بن عبد الله اليزني ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← مرثد بن عبد الله اليزني
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
Sunan Darmi Hadith 1993 in Urdu