یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب فى لحوم الأضاحي:
قربانی کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 1997
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، قَالَ:"إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ كَيْ تَسَعَكُمْ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ، فَكُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَائْتَجِرُوا". قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: ائْتَجِرُوا: اطْلُبُوا فِيهِ الْأَجْرَ.
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تم کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا تاکہ تم کو کافی ہو اور اب وسعت آ گئی ہے، تم کھاؤ، ذخیرہ کرو اور اجر و ثواب حاصل کرو۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «اتجروا» کا مطلب ہے اجر حاصل کرو۔ یعنی صدقہ و خیرات کر کے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1997]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2001] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2813] ، [نسائي فى الصغریٰ 4235] ، [ابن ماجه 3160] ، [شرح معاني الآثار للطحاوي 186/4] ، [أحمد 75/5]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2813] ، [نسائي فى الصغریٰ 4235] ، [ابن ماجه 3160] ، [شرح معاني الآثار للطحاوي 186/4] ، [أحمد 75/5]
وضاحت: (تشریح احادیث 1995 سے 1997)
پہلی حدیث میں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت ہے، اس کا سبب اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے اور کھانے سے منع کیا تھا کیونکہ اس وقت لوگ محتاج تھے اور ہر ایک کے پاس قربانی کی وسعت نہ تھی تو حکم دیا گیا کہ تین دن میں کھا لو اور صدقہ و خیرات کر دو، تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ رکھو، لیکن اب وسعت آگئی، لوگ مالدار ہو گئے ہیں اس لئے کھاؤ بھی، صدقہ بھی کرو، چاہو تو رکھو بھی، لہٰذا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے، اور اب قربانی کا گوشت فریج میں رکھنا اور بعد میں کھاتے رہنا بھی جائز ٹھہرا۔
مزید تفصیل اس نہی کی اگلی حدیث میں بھی آ رہی ہے۔
پہلی حدیث میں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت ہے، اس کا سبب اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے اور کھانے سے منع کیا تھا کیونکہ اس وقت لوگ محتاج تھے اور ہر ایک کے پاس قربانی کی وسعت نہ تھی تو حکم دیا گیا کہ تین دن میں کھا لو اور صدقہ و خیرات کر دو، تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ رکھو، لیکن اب وسعت آگئی، لوگ مالدار ہو گئے ہیں اس لئے کھاؤ بھی، صدقہ بھی کرو، چاہو تو رکھو بھی، لہٰذا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے، اور اب قربانی کا گوشت فریج میں رکھنا اور بعد میں کھاتے رہنا بھی جائز ٹھہرا۔
مزید تفصیل اس نہی کی اگلی حدیث میں بھی آ رہی ہے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1997 in Urdu
أبو المليح بن أسامة الهذلي ← نبيشة بن عبد الله الهذلي