یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب فى لحوم الأضاحي:
قربانی کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 1998
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْقَابِلُ وَضَحَّى النَّاسُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ لَتَرْفُقُ بِالنَّاسِ، كَانُوا يَدَّخِرُونَ مِنْ لُحُومِهَا وَوَدَكِهَا. قَالَ:"فَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمَ؟"قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَوَ لَمْ تَنْهَهُمْ عَامَ أَوَّلَ عَنْ أَنْ يَأْكُلُوا لُحُومَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ؟ فَقَالَ:"إِنَّمَا نَهَيْتُ عَنْ ذَلِكَ لِلْحَاضِرَةِ الَّتِي حَضَرَتْهُمْ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ لِيَبُثُّوا لُحُومَهَا فِيهِمْ، فَأَمَّا الْآنَ، فَلْيَأْكُلُوا وَلْيَدَّخِرُوا".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرما دیا تھا، اگلے سال لوگوں نے قربانیاں کیں تو میں نے عرض کیا: اس قربانی سے لوگوں کے لئے آسانی تھی، لوگ ان کے گوشت اور چربی کا ذخیرہ کر لیتے اور (کافی دن تک) کھاتے رہتے تھے؟ فرمایا: ”تو اب انہیں ذخیرہ کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟“ عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ ہی نے تو پچھلے سال ان کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع کر دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس وقت ان حاضرین کی وجہ سے منع کیا تھا جو دیہات سے آ کر جمع ہو گئے تھے تاکہ ان کے درمیان قربانیوں کا گوشت تقسیم کروا دیا جائے، لیکن اب لوگ کھائیں اور ذخیرہ اندوزی بھی کر سکتے ہیں۔“ (یعنی ممانعت کا حکم صرف اسی سال کے لئے تھا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1998]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2002] »
اس روایت کی سند صحیح اور مختلف سیاق سے یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5423] ، [مسلم 1971] ، [أبوداؤد 2812] ، [نسائي 4443] ، [ابن حبان 5927]
اس روایت کی سند صحیح اور مختلف سیاق سے یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5423] ، [مسلم 1971] ، [أبوداؤد 2812] ، [نسائي 4443] ، [ابن حبان 5927]
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1998 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق