یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب فى لحوم الأضاحي:
قربانی کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 1999
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزَّبِيدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى: "أَصْلِحْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ"فَأَصْلَحْتُ لَهُ مِنْهُ، فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں: ہم منیٰ میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا: ”ہمارے لئے اس گوشت کو صاف کر کے رکھ لو“، چنانچہ میں نے حکم کی تعمیل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپسی تک وہی گوشت تناول فرماتے رہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1999]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2003] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1975] ، [أبوداؤد 2814] ، [ابن حبان 5932]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1975] ، [أبوداؤد 2814] ، [ابن حبان 5932]
وضاحت: (تشریح احادیث 1997 سے 1999)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل دونوں سے ثابت ہوا کہ قربانی کا گوشت تین دن کے بعد بھی رکھا اور کھایا جا سکتا ہے، کیونکہ مکہ سے مدینہ منورہ کی مسافت تقریباً ایک ہفتہ کی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل دونوں سے ثابت ہوا کہ قربانی کا گوشت تین دن کے بعد بھی رکھا اور کھایا جا سکتا ہے، کیونکہ مکہ سے مدینہ منورہ کی مسافت تقریباً ایک ہفتہ کی تھی۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1999 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← ثوبان بن بجدد القرشي