علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب الحال التى تجوز للرجل أن يخطب فيها:
آدمی کے لئے کس کو پیغام دینا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 2215
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ:"أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَالْعَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا، أَوْ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، أَوْ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، وَلَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى، وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پھوپھی پر بھتیجی سے یا بھتیجی پر پھوپھی سے نکاح کرنے کو، اسی طرح خالہ پر اس کی بھانجی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح کرنے کو، نہ بڑی پر چھوٹی سے نکاح کیا جائے اور نہ چھوٹی پر بڑی سے نکاح کیا جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2215]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2224] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5109] ، [مسلم 1408] ، [أبوداؤد 2065] ، [ترمذي 1126] ، [نسائي 3288] ، [ابن ماجه 1929] ، [أبويعلی 6641] ، [ابن حبان 4068]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5109] ، [مسلم 1408] ، [أبوداؤد 2065] ، [ترمذي 1126] ، [نسائي 3288] ، [ابن ماجه 1929] ، [أبويعلی 6641] ، [ابن حبان 4068]
وضاحت: (تشریح حدیث 2214)
یعنی اگر کسی عورت کی بھتیجی سے نکاح کر لیا ہے تو اس کے جیتے جی اس کی پھوپھی سے نکاح نہ کرے، اور اگر بھانجی سے نکاح کر لیا ہے تو اس کے اوپر اس کی خالہ سے نکاح نہ کرے، اور اگر پھوپھی سے نکاح کر لیا ہے تو اس کی بھتیجی سے نہ کرے، اور اسی طرح خالہ کو کر لیا ہے تو بھانجی سے نکاح نہ کرے۔
(وحیدی)۔
یعنی اگر کسی عورت کی بھتیجی سے نکاح کر لیا ہے تو اس کے جیتے جی اس کی پھوپھی سے نکاح نہ کرے، اور اگر بھانجی سے نکاح کر لیا ہے تو اس کے اوپر اس کی خالہ سے نکاح نہ کرے، اور اگر پھوپھی سے نکاح کر لیا ہے تو اس کی بھتیجی سے نہ کرے، اور اسی طرح خالہ کو کر لیا ہے تو بھانجی سے نکاح نہ کرے۔
(وحیدی)۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو عامر الشعبي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر داود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي | ثقة متقن | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← داود بن أبي هند القشيري | ثقة متقن |
Sunan Darmi Hadith 2215 in Urdu
عامر الشعبي ← أبو هريرة الدوسي