🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب الْحَدُّ كَفَّارَةٌ لِمَنْ أُقِيمَ عَلَيْهِ:
جس پر حد جاری کی جائے وہ اس کے لئے کفارہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2368
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنَكْدِرِ، عَنْ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدٌّ، غُفِرَ لَهُ ذَلِكَ الذَّنْبُ".
ابن خزیمہ بن ثابت اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس پر حد لگائی گئی (یعنی اس کو جرم کی سزا دی گئی) تو وہ گناہ اس سے معاف کر دیا جاتا ہے۔“ (یعنی ایسا شخص جس پر حد جاری کی گئی وہ اس گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔) [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2368]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد وهو: الليثي، [مكتبه الشامله نمبر: 2376] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ ابن خزیمہ کا نام: معاویہ ہے اور اسامہ بن زید لیثی ہیں، تخریج کے لئے دیکھئے: [طبراني 88/4، 3731، 3828] ، [التاريخ الكبير للبخاري 206] ، [أحمد 214/5] ، [ابن حبان 4405] ، [الحميدي 391]
وضاحت: (تشریح احادیث 2366 سے 2368)
گناہِ کبیرہ پر اگر کسی کو حد لگائی جائے یا اور سزا دی جائے تو حدیث کے مطابق وہ اس کے لئے اس گناہ کا کفارہ ہے۔
اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے، دو بار اس کو عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ سچی توبہ کر لے، اور اگر ایسے مجرم پر حد نہیں لگائی جا سکی اور وہ مر گیا تو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے، چاہے تو بخش دے اور کہہ دے: جا دنیا میں تیرے جرم کو میں نے چھپا دیا، اب آخرت میں بھی تجھے معاف کرتا ہوں، یا چاہے تو عذاب میں مبتلا کرے۔
«﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائده: 118] » ”اگر تو انہیں عذاب میں مبتلا کرے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو (اے رب) تو غالب اور حکیم ہے ہی۔
“

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد وهو: الليثي


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خزيمة بن ثابت الأنصاري، أبو عمارةصحابي
👤←👥عمارة بن خزيمة الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله
Newعمارة بن خزيمة الأنصاري ← خزيمة بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← عمارة بن خزيمة الأنصاري
ثقة
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد
Newأسامة بن زيد الليثي ← محمد بن المنكدر القرشي
صدوق يهم كثيرا
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← أسامة بن زيد الليثي
ثقة حافظ
👤←👥مروان بن محمد الطاطري، أبو حفص، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newمروان بن محمد الطاطري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2368 in Urdu