🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ:
نذر پوری کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2370
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ جَاءَ الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "فِ بِنَذْرِكَ".
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے ایامِ جاہلیت میں ایک نذر مانی تھی پھر اسلام لے آیا؟ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنی نذر کو پورا کرو۔“ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2370]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2378] »
یہ حدیث صحیح اور متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6697] ، [مسلم 1656] ، [أبوداؤد 3325] ، [ترمذي 1539] ، [نسائي 3829] ، [ابن ماجه 1772، 2129]
وضاحت: (تشریح حدیث 2369)
نذر: غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کر لینے کو کہتے ہیں، اور ایمان یمین کی جمع ہے جس کے معنی قسم کے ہیں، نذر کی مثال جیسے کوئی کہے یہ لڑکا ڈاکٹر بن گیا تو حج کروں گا، یا میرے کام میں نفع ہوا تو صدقہ کروں گا یا روزے رکھوں گا، اس طرح کی جو بھی نذر ہو اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نہ ہو تو اسے پورا کرنا ضروری ہے جیسا کہ اس باب کی حدیثوں سے واضح ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جنتی لوگوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: «‏‏‏‏﴿يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ .....﴾ [الإنسان: 7] » کہ جو لوگ اپنی نذر کو پورا کرتے ہیں، نیز فرمانِ باری تعالیٰ: «﴿وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ .....﴾ [الحج: 29] » واضح رہے کہ نذر ماننے سے کسی کام کا ہونے یا نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا، جو الله تعالیٰ نے مقدر فرمایا ہے وہ تو ہو کر رہتا ہے، اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ نذر سے صرف اتنا ہوتا ہے کہ بخیل کنجوس آدمی کے ہاتھ سے مال نکال لیتی ہے، کیونکہ بخیل پر جب کوئی آفت آتی ہے تب ہی خرچ کرتا ہے۔
مزید تفصیل حدیث رقم (2377) پر آ رہی ہے۔
مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کسی نے اسلام لانے سے پہلے کوئی نذر مانی ہے اور وہ اللہ کی اطاعت ہی میں ہے تو اس کو پورا کرنا واجب ہے۔
بعض علماء نے کہا: اسلام سے پہلے اس نذر کی کوئی شرعی حیثیت ہی نہیں پھر پورا کرنے کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جو اپنی نذر پوری کرنے کے لئے کہا تو وہ استحباباً تھا۔
واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحديث متفق عليه


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2370 in Urdu