سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب الرجل يحلف على الشيء وهو يوري على يمينه:
کوئی آدمی قسم میں توریہ کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2386
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدَّ قُكَ بِهِ صَاحِبُكَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری قسم اسی مطلب پر ہوگی جس پر تمہارا صاحب (ساتھی) تمہیں سچا سمجھے۔“ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2386]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح هشيم صرح بالتحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 2394] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1653] ، [أبوداؤد 3255] ، [ترمذي 1354] ، [أحمد 228/2، وغيرهم]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1653] ، [أبوداؤد 3255] ، [ترمذي 1354] ، [أحمد 228/2، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2385)
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب قاضی یا کوئی کسی شخص کو قسم دے، اور وہ مکاری سے اپنے تئیں گناہ سے بچنے کے لئے قسم کھائے، اور اس کا مقصد دوسرا رکھے، تو یہ مکر اور توریہ اس کو فائدہ نہ دے گا، اور قسم کا گناہ اس پر پڑے گا، اس پر اجماع ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب قاضی یا کوئی کسی شخص کو قسم دے، اور وہ مکاری سے اپنے تئیں گناہ سے بچنے کے لئے قسم کھائے، اور اس کا مقصد دوسرا رکھے، تو یہ مکر اور توریہ اس کو فائدہ نہ دے گا، اور قسم کا گناہ اس پر پڑے گا، اس پر اجماع ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥عباد بن ذكوان السمان عباد بن ذكوان السمان ← أبو صالح السمان | مقبول | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← عباد بن ذكوان السمان | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← هشيم بن بشير السلمي | وله أوهام، ثقة حافظ شهير |
Sunan Darmi Hadith 2386 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي