🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب فى النهي عن شرطين فى بيع:
ایک بیع میں دو شرطیں لگانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2596
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ".
عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض اور بیع اور ایک بیع میں دو شرطوں سے اور کسی چیز کو اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے اس کا فائدہ حاصل کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2602] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3504] ، [ترمذي 1234] ، [نسائي 4645] ، [ابن ماجه 2188] ۔ نیز دیکھئے: [ابن حبان 4321] ، [موارد الظمآن 1108] ، [شرح معاني الآثار 46/4] ، [دارقطني 75/3]
وضاحت: (تشریح حدیث 2595)
اس حدیث میں تین قسم کی بیع سے منع کیا گیا ہے: (1) سلف اور بیع، یعنی قرض کے ساتھ سودا کرنا، اس کی مثال اس طرح ہے کہ بائع مشتری سے کہے: میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ دس روپے میں فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ تو مجھے دس روپے قرض دے، یا یوں کہے کہ میں تجھے دس روپے قرض دیتا ہوں بشرطیک تم اپنا سامان مجھے فروخت کرو اور میرے سوا کسی اور کو نہ بیچو۔
(2) «شرطين فى بيع» ایک بیع میں دو شرطیں لگانا، اس سے متعلق ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ایک بیع میں دو بیع ہیں، اور امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی شکل یہ ہے کہ میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ فروخت کرتا ہوں اس شرط پر کہ میں ہی اسے درزی سے سلوا دوں گا اور میں ہی اس کی کٹائی کروں گا۔
«كما رواه الترمذي» (3) «ربح ما لم يضمن» یعنی قبضہ میں لینے سے پہلے منافع حاصل کرنا، اس کی صورت یہ ہے کہ مشتری نے کوئی سامان خریدا، اس کو اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے ہی بیچ دیا اور اس کو فائدہ مل گیا، نہ پیسے لگانے پڑے نہ اپنے قبضہ میں لینا پڑا۔
ان تینوں قسم کے لین دین سے حدیثِ مذکور میں منع کیا گیا ہے، لہٰذا یہ ممنوعہ بیوع میں داخل ہیں۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥الحسين بن ذكوان المعلم
Newالحسين بن ذكوان المعلم ← عمرو بن شعيب القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← الحسين بن ذكوان المعلم
ثقة متقن