سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب فيمن باع عبدا وله مال:
کوئی آدمی کسی غلام کو فروخت کرے جس کے پاس مال بھی ہو
حدیث نمبر: 2597
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ اشْتَرَى عَبْدًا وَلَمْ يَشْتَرِطْ مَالَهُ، فَلَا شَيْءَ لَهُ".
سالم نے روایت کیا اپنے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی غلام خریدے اور اس کے مال کی شرط نہ لگائے تو اس مشتری کے لئے غلام کے مال میں سے کچھ نہیں ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2597]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2603] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2379] ، [مسلم 1543] ، [أبويعلی 5427] ، [ابن حبان 4921]
بخاری شریف کی روایت میں ہے: ”اگر کسی شخص نے کوئی مال والا غلام بیچا تو اس کا مال بیچنے والے کا ہوگا، ہاں اگر مشتری اس کی شرط لگائے (کہ غلام کے ساتھ اس کا مال بھی خریدتا ہوں) تب غلام کا مال مشتری کے لئے ہوگا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2379] ، [مسلم 1543] ، [أبويعلی 5427] ، [ابن حبان 4921]
بخاری شریف کی روایت میں ہے: ”اگر کسی شخص نے کوئی مال والا غلام بیچا تو اس کا مال بیچنے والے کا ہوگا، ہاں اگر مشتری اس کی شرط لگائے (کہ غلام کے ساتھ اس کا مال بھی خریدتا ہوں) تب غلام کا مال مشتری کے لئے ہوگا۔“
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث محمد بن أبي ذئب العامري ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة فقيه فاضل | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← محمد بن أبي ذئب العامري | ثقة |
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي