🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب النهي عن تلقي البيوع:
سامان خریدنے کی غرض سے قافلوں سے شہر میں آنے سے پہلے ملنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2602
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَلَقَّوُا الْجَلَبَ، مَنَ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَيْئًا، فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہر سے شہر میں غلہ لانے والوں کو آگے جا کر نہ ملو، اور جو شخص اس (قافلے) سے جا کر ملا اور اس سے کچھ سامان خرید بھی لیا تو اس بیچنے والے مالک کو منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہے (چاہے تو سودا باقی رکھے یا منسوخ کر دے)۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2602]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2608] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2162] ، [مسلم 1519] ، [نسائي 4513] ، [أبويعلی 6073] ، [ابن حبان 4961]
وضاحت: (تشریح حدیث 2601)
اس حدیث میں دیہات سے سامان لے کر بیچنے کی غرض سے شہر آنے والوں سے ملنے اور ان سے بے خبری کی وجہ سے سستے داموں اشیاء خریدنے کی ممانعت ہے۔
مسلمان مسلمان کا خیرخواه، ہمدرد و غمگسار ہونا چاہے، اس طرح کے عمل سے خودغرضی اور مفاد پرستی کو ہوا ملتی ہے، اور تقویت ہوتی ہے کہ اپنا مفاد سامنے رکھا جائے، اور بے خبر لوگوں کی بے خبری سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے۔
اور شہر آنے والے قافلوں سے ملاقات نہ کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ فروخت کرنے والا دھوکہ دہی اور ضرر رسانی سے بچ جائے، غبن اور خدع سے محفوظ ہو جائے، اور اسی طرح جو لوگ منڈی میں سامان خریدنے کے لئے آتے ہیں وہ لوگ فائدہ اور منافع حاصل کر لیتے ہیں، یہ تو معمول کا رواج ہے کہ قافلے اپنا سامان منڈی کے عام بھاؤ سے قدرے سستا فروخت کرتے ہیں۔
بہرحال اسلام نے دھوکہ دہی سے منع کیا اور قافلوں سے جا کر ملنے سے منع کیا تاکہ سیدھے سادے لوگ دھوکے میں خسارہ نہ اٹھائیں، اگر ایسی بیع و فروخت ہو بھی جائے تو مالکِ سلع کو منڈی میں پہنچنے پر اس بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کر دینے کا اختیار ہے۔
واللہ اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن المنهال الضرير، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن المنهال الضرير ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة حافظ