سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فى تعاهد القرآن:
قرآن پاک کی نسیان سے حفاظت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3378
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ يُكَنَّى أَبَا عَمْرٍو، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: "سَيَبْلَى الْقُرْآنُ فِي صُدُورِ أَقْوَامٍ كَمَا يَبْلَى الثَّوْبُ، فَيَتَهَافَتُ، يَقْرَءُونَهُ لَا يَجِدُونَ لَهُ شَهْوَةً وَلَا لَذَّةً، يَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ عَلَى قُلُوبِ الذِّئَابِ، أَعْمَالُهُمْ طَمَعٌ لَا يُخَالِطُهُ خَوْفٌ، إِنْ قَصَّرُوا، قَالُوا: سَنَبْلُغُ، وَإِنْ أَسَاءُوا، قَالُوا: سَيُغْفَرُ لَنَا، إِنَّا لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: کچھ لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم ایسے ہی پرانا ہو جائے گا جیسے کپڑا پرانا ہو جاتا ہے، لوگ اس کو پڑھیں گے لیکن اس میں رغبت و لذت نہ پائیں گے، ایسے لوگ پگھلنے والے دلوں پر میڈھوں کی کھال پہنیں گے، ان کے اعمال میں لالچ ہو گا، خوف الٰہی اس میں نہ ہو گا، اگر ان سے کوتاہی ہو گی تو کہیں گے ہم عنقریب (منزل مقصود کو) پہنچ جائیں گے، اور اگر گناہ کریں گے تو کہیں گے ہماری مغفرت کر دی جائے گی کیوں کہ ہم اللہ کے ساتھ کوئی شرک نہیں کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3378]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى معاذ وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3389] »
اس حدیث کی سند سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ تک صحیح و موقوف ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد]
اس حدیث کی سند سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ تک صحیح و موقوف ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد]
الرواة الحديث:
زرعة السيباني ← معاذ بن جبل الأنصاري