علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. باب الطهر كيف هو:
طہر (پاکی) سے مراد کیا ہے؟
حدیث نمبر: 887
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: "إِذَا رَأَتْ الدَّمَ، فَلْتُمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَرَى الطُّهْرَ أَبْيَضَ كَالْقَصَّةِ، ثُمَّ تَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب خون آئے تو نماز نہ پڑھے، یہاں تک کہ سفید قَصّہ نہ دیکھ لے، اس کے بعد غسل کرے اور نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 887]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل سليمان بن موسى، [مكتبه الشامله نمبر: 891] »
سلیمان بن موسیٰ کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [بيهقي 336/1، 337] ، [معرفة السنن والآثار 2184] ، [موطا الإمام مالك 99] ، [مصنف عبدالرزاق 11559] ۔ نیز دیکھئے: [فتح الباري 420/1]
سلیمان بن موسیٰ کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [بيهقي 336/1، 337] ، [معرفة السنن والآثار 2184] ، [موطا الإمام مالك 99] ، [مصنف عبدالرزاق 11559] ۔ نیز دیکھئے: [فتح الباري 420/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 885 سے 887)
«قَصَّه» کا مطلب ہے روئی یا کپڑا لگانے پر بلا دھبے کے صاف نکلے تب پاک سمجھی جائے گی۔
«قَصَّه» کا مطلب ہے روئی یا کپڑا لگانے پر بلا دھبے کے صاف نکلے تب پاک سمجھی جائے گی۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 887 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق