صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب نهي من اكل ثوما او بصلا او كراثا او نحوها عن حضور المسجد:
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں جانا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک اس کی بو منہ سے نہ جائے اور اس کو مسجد سے نکالنا۔
ترقیم عبدالباقی: 565 ترقیم شاملہ: -- 1256
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ، فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ: الثُّومِ، وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ، فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا، فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ "، فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ، حُرِّمَتْ، فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِي، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی، اس ترکاری (لہسن) پر جا پڑے، لوگ بھوکے تھے اور ہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بو محسوس کی۔ آپ نے فرمایا: ”جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔“ اس پر لوگ کہنے لگے: (لہسن) حرام ہو گیا، حرام ہو گیا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1256]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی لہسن کی ترکاری پر ٹوٹ پڑے کیونکہ لوگ بھوکے تھے اور ہم نے اسے خوب پیٹ بھر کر کھایا، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدبو محسوس فرمائی تو فرمایا: ”جس نے اس ناپسندیدہ (خبیث) پودے سے کچھ کھایا وہ ہماری مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔“ تو لوگوں نے کہا، لہسن حرام قرار دیا گیا، حرام ہو گیا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے جو کچھ میرے لیے حلال کر دیا ہے میں اس کو حرام نہیں کر سکتا، لیکن یہ ایک پودا ہے میں اس کی بو کو ناپسند کرتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري