صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب نهي من اكل ثوما او بصلا او كراثا او نحوها عن حضور المسجد:
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں جانا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک اس کی بو منہ سے نہ جائے اور اس کو مسجد سے نکالنا۔
ترقیم عبدالباقی: 566 ترقیم شاملہ: -- 1257
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ، هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَنَزَلَ نَاسٌ مِنْهُمْ، فَأَكَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْكُلْ آخَرُونَ، فَرُحْنَا إِلَيْهِ، فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ، وَأَخَّرَ الآخَرِينَ، حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ (ایک دفعہ) پیاز کے ایک کھیت کے پاس سے گزرے۔ ان میں سے کچھ لوگ اترے اور اس میں سے کچھ کھا لیا، اور دوسروں نے نہ کھایا۔ ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے ان لوگوں کو (قریب) بلا لیا جنہوں نے پیاز نہیں کھائی تھی اور دوسروں (جنہوں نے پیاز کھایا تھا) کو پیچھے کر دیا یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1257]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیاز کے کھیت سے گزرے، ان میں کچھ لوگوں نے اتر کر اس سے کچھ کھا لیا اور دوسروں نے نہ کھایا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو قریب بلا لیا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا تھا اور جنہوں نے پیاز کھایا تھا ان کو پیچھے کر دیا یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہوگئی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الله بن خباب الأنصاري ← أبو سعيد الخدري