صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب السلام للتحليل من الصلاة عند فراغها وكيفيته:
باب: نماز ختم کرتے وقت سلام کیوں پھیرنا چاہئیے۔
ترقیم عبدالباقی: 582 ترقیم شاملہ: -- 1315
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى أَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ ".
عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے دیکھا کرتا تھا حتیٰ کہ میں آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1315]
حضرت عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ (رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دائیں اور اپنے بائیں سلام پھیرتے دیکھتا تھا، حتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں کی سفیدی دیکھتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 582
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1317
| يسلم عن يمينه عن يساره |
سنن النسائى الصغرى |
1318
| يسلم عن يمينه عن يساره حتى يرى بياض خده |
صحيح مسلم |
1315
| يسلم عن يمينه عن يساره حتى أرى بياض خده |
سنن ابن ماجه |
915
| يسلم عن يمينه عن يساره |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1315 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1315
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور سلف کے نزدیک دونوں طرف سلام پھیرنا چاہیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سامنے سلام پھیرا جائے گا بعض دفعہ یہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہے۔
کیونکہ نماز سے تو انسان ایک ہی سلام سے نکل جاتا ہے۔
2۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اورجمہور سلف کےنزدیک نماز سے نکلنے کے لیے سلام پھیرنا فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی اور احناف کے نزدیک واجب ہے اگر نمازی تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد جان بوجھ کر نماز کے منافی کوئی کام کرے تو نماز ہو جائے گی لیکن سجدہ سہو کرنا پڑے گا۔
لیکن آخر میں اگر بلاقصد و ارادہ اگر کوئی کام نماز کے منافی ہو جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نماز باطل ہو گی۔
اور صاحبین کے نزدیک درست ہو گی۔
لیکن علامہ کرخی نے اس قول کی تردید کی ہے تفصیل کے لیے دیکھئے:
(شرح صحیح مسلم علامہ سعیدی:
ج 2 ص: 178۔
179)
اس کے لیے بلا دلیل یہ قاعدہ بنایا گیا ہے۔
کہ خبر واحد سے یہ وجوب ثابت ہوتا ہے فرضیت نہیں۔
دوسری دلیل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ضعیف روایت پیش کی جاتی ہے۔
تیسری دلیل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز،
صحیح طریقہ سے نہ پڑھنے والے کو نماز کا طریقہ سکھانا ہے کہ اس میں سلام کا تذکرہ نہیں حالانکہ اس میں صرف ان امور کا تذکرہ ہے جہاں اس نے غلطی کی تھی۔
نماز کے تمام امور کا تذکرہ نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
1۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور سلف کے نزدیک دونوں طرف سلام پھیرنا چاہیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سامنے سلام پھیرا جائے گا بعض دفعہ یہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہے۔
کیونکہ نماز سے تو انسان ایک ہی سلام سے نکل جاتا ہے۔
2۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اورجمہور سلف کےنزدیک نماز سے نکلنے کے لیے سلام پھیرنا فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی اور احناف کے نزدیک واجب ہے اگر نمازی تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد جان بوجھ کر نماز کے منافی کوئی کام کرے تو نماز ہو جائے گی لیکن سجدہ سہو کرنا پڑے گا۔
لیکن آخر میں اگر بلاقصد و ارادہ اگر کوئی کام نماز کے منافی ہو جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نماز باطل ہو گی۔
اور صاحبین کے نزدیک درست ہو گی۔
لیکن علامہ کرخی نے اس قول کی تردید کی ہے تفصیل کے لیے دیکھئے:
(شرح صحیح مسلم علامہ سعیدی:
ج 2 ص: 178۔
179)
اس کے لیے بلا دلیل یہ قاعدہ بنایا گیا ہے۔
کہ خبر واحد سے یہ وجوب ثابت ہوتا ہے فرضیت نہیں۔
دوسری دلیل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ضعیف روایت پیش کی جاتی ہے۔
تیسری دلیل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز،
صحیح طریقہ سے نہ پڑھنے والے کو نماز کا طریقہ سکھانا ہے کہ اس میں سلام کا تذکرہ نہیں حالانکہ اس میں صرف ان امور کا تذکرہ ہے جہاں اس نے غلطی کی تھی۔
نماز کے تمام امور کا تذکرہ نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1315]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1318
سلام پھیرنے کا بیان۔
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن جعفر مخرمی میں کوئی حرج نہیں یعنی قابل قبول راوی ہیں، اور علی بن مدینی کے والد عبداللہ بن جعفر بن نجیح، متروک الحدیث ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1318]
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن جعفر مخرمی میں کوئی حرج نہیں یعنی قابل قبول راوی ہیں، اور علی بن مدینی کے والد عبداللہ بن جعفر بن نجیح، متروک الحدیث ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1318]
1318۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن جعفر مخرمی ہیں جو ثقہ ہیں۔ ایک دوسرے عبداللہ بن جعفر ہیں جو مشہور محدث اور نقاد حضرت علی بن مدینی کے والد محترم ہیں لیکن وہ اپنے کمزور حافظے کی وجہ سے علم حدیث میں قابل اعتبار نہیں۔ چونکہ اشتباہ کا خطرہ تھا، اس لیے امام صاحب نے وضاحت فرمائی۔ جزاہ اللہ خیرا۔
➋ اسلام دونوں جانب کہنا چاہیے۔ کثیر روایات اسی پر دال ہیں۔ لیکن نماز کے آخر میں صرف ایک طرف سلام کہنا بھی جائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طرف سلام کہنا بھی ثابت ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة: 628/1، حدیث: 316] جب ایک سلام کہنا ہو تو سامنے کی طرف منہ کر کے سلام کہا جائے، پھر چہرے کو دائیں جانب مائل کر لیں۔ واللہ أعلم۔
➊ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن جعفر مخرمی ہیں جو ثقہ ہیں۔ ایک دوسرے عبداللہ بن جعفر ہیں جو مشہور محدث اور نقاد حضرت علی بن مدینی کے والد محترم ہیں لیکن وہ اپنے کمزور حافظے کی وجہ سے علم حدیث میں قابل اعتبار نہیں۔ چونکہ اشتباہ کا خطرہ تھا، اس لیے امام صاحب نے وضاحت فرمائی۔ جزاہ اللہ خیرا۔
➋ اسلام دونوں جانب کہنا چاہیے۔ کثیر روایات اسی پر دال ہیں۔ لیکن نماز کے آخر میں صرف ایک طرف سلام کہنا بھی جائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طرف سلام کہنا بھی ثابت ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة: 628/1، حدیث: 316] جب ایک سلام کہنا ہو تو سامنے کی طرف منہ کر کے سلام کہا جائے، پھر چہرے کو دائیں جانب مائل کر لیں۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1318]
Sahih Muslim Hadith 1315 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري