صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
29. باب متى يقوم الناس للصلاة:
باب: نماز کے واسطے نمازی کب کھڑے ہوں۔
ترقیم عبدالباقی: 606 ترقیم شاملہ: -- 1370
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ، " يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا خَرَجَ، أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورج ڈھل جاتا تو بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان دیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے تک اقامت نہ کہتے۔ جب آپ حجرے سے نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1370]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب سورج ڈھل جاتا تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظہر کی اذان کہتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری تک تکبیر نہ کہتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ سے نکلتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر وہ تکبیر شروع کر دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1370]
ترقیم فوادعبدالباقی: 606
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة زهير بن معاوية الجعفي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة ثبت | |
👤←👥الحسن بن أعين الحراني، أبو علي الحسن بن أعين الحراني ← زهير بن معاوية الجعفي | ثقة | |
👤←👥سلمة بن شبيب المسمعي، أبو عبد الرحمن سلمة بن شبيب المسمعي ← الحسن بن أعين الحراني | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1370
| يؤذن إذا دحضت فلا يقيم حتى يخرج النبي فإذا خرج أقام الصلاة حين يراه |
جامع الترمذي |
202
| قد خرج أقام الصلاة حين يراه |
سنن أبي داود |
537
| يؤذن ثم يمهل فإذا رأى النبي قد خرج أقام الصلاة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1370 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1370
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
دَحَضَتْ:
سورج ڈھل گیا۔
مفردات الحدیث:
دَحَضَتْ:
سورج ڈھل گیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1370]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 537
مؤذن اذان کے بعد امام کا انتظار کرے۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ تشریف لا رہے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 537]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ تشریف لا رہے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 537]
537۔ اردو حاشیہ:
اقامت کہنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ پہلے امام اپنے مصلے پر کھڑا ہو تب ہی اقامت کہی جائے بلکہ اسے آتا دیکھ کر بھی تکبیر کہنا جائز ہے۔
اقامت کہنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ پہلے امام اپنے مصلے پر کھڑا ہو تب ہی اقامت کہی جائے بلکہ اسے آتا دیکھ کر بھی تکبیر کہنا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 537]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 202
امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے۔
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھا یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو دیکھ لیتا کہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھا یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو دیکھ لیتا کہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
اردو حاشہ:
1؎:
کیونکہ مؤذن کو اذان کے وقت کا محافظ بنایا گیا ہے اس لیے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اذان کو مؤخر کرنے یا اسے مقدم کرنے پر اسے مجبور کرے۔
2؎:
اس لیے اس کے اشارہ یا اجازت کے بغیر تکبیر نہیں کہنی چاہئے۔
1؎:
کیونکہ مؤذن کو اذان کے وقت کا محافظ بنایا گیا ہے اس لیے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اذان کو مؤخر کرنے یا اسے مقدم کرنے پر اسے مجبور کرے۔
2؎:
اس لیے اس کے اشارہ یا اجازت کے بغیر تکبیر نہیں کہنی چاہئے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 202]
سماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري