صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
39. باب وقت العشاء وتاخيرها:
باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 641 ترقیم شاملہ: -- 1451
وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ، نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي، وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي أَمْرِهِ، حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ، حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ عَلَى رِسْلِكُمْ: " أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا، أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ "، أَوَ قَالَ: مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ، لَا نَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور میرے (وہ) ساتھی جو میرے ساتھ بڑی کشتی میں (حبشہ سے واپس) آئے تھے، بطحان کے نشیبی میدان میں اترے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے اور ہر رات ان میں سے ایک جماعت باری باری عشاء کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یوں اتفاق پیش آیا کہ آپ اپنے کسی معاملے میں (اتنے) مشغول ہو گئے کہ آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا حتی کہ آدھی رات ہو گئی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو ان لوگوں سے جو آپ کے سامنے حاضر تھے، فرمایا: ”ذرا ٹھہرو میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم خوش ہو جاؤ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ لوگوں میں اس وقت، تمہارے سوا، کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا۔“ یا آپ نے فرمایا: ”اس وقت تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔“ ہمیں یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سا جملہ کہا تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1451]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے ساتھی جو کشتی میں میرے ساتھ آئے تھے، بطحان کی وسیع جگہ میں اترے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف فرما تھے اور ہر رات ہماری ایک جماعت باری باری عشاء کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو آدھی رات تک مؤخر کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حاضرین کو نماز پڑھائی، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی، حاضرین سے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو! میں تمہیں بتاتا ہوں اور خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی اس وقت تمہارے سوا نماز نہیں پڑھ رہا۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔“ راوی کو یاد نہیں کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کون سا جملہ کہا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے، «أَبْهَرَ اللَّيْلِ» ”رات آدھی گزر گئی“۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 641
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
567
| أبشروا إن من نعمة الله عليكم أنه ليس أحد من الناس يصلي هذه الساعة غيركم |
صحيح مسلم |
1451
| أبشروا أن من نعمة الله عليكم أنه ليس من الناس أحد يصلي هذه الساعة غيركم |
Sahih Muslim Hadith 1451 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري