صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
54. باب استحباب القنوت في جميع الصلاة إذا نزلت بالمسلمين نازلة:
باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو نمازوں میں بلند آواز سے قنوت پڑھنا اور اللہ کے ساتھ پناہ مانگنا مستحب ہے اور اس کا محل و مقام آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور صبح کی نماز میں قنوت پر دوام مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 675 ترقیم شاملہ: -- 1543
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، إِذْ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ: اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ، إِلَى قَوْلِهِ: كَسِنِي يُوسُفَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ (ایک روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے فرمایا: «سمع اللہ لمن حمدہ» تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے (دعا مانگتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما۔“ کے الفاظ تک اوزاعی کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی، بعد کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ (اوزاعی کے بجائے) شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1543]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہا، پھر سجدہ کرنے سے پہلے یہ دعا کی: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے“، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، لیکن اس میں «قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ رَأَيْتُ» الخ والا حصہ نقل نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1543]
ترقیم فوادعبدالباقی: 675
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 1543 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي