🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب جامع اوصاف الإسلام:
باب: اسلام کے جامع اوصاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 38 ترقیم شاملہ: -- 159
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: غَيْرَكَ، قَالَ: " قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ ".
عبداللہ بن نمیر، جریر اور ابواسامہ نے ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی پکی بات بتائیے کہ آپ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے (ابواسامہ کی روایت میں آپ کے بعد کے بجائے آپ کے سوا کے الفاظ ہیں) آپ نے ارشاد فرمایا: کہو: «آمنت بالله» (میں اللہ پر ایمان لایا)، پھر اس پر پکے ہو جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 159]
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی (تسلّی بخش) بات بتائیے کہ پھر آپ کے بعد مجھے کسی سے اسلام کے متعلق سوال نہ کرنا پڑے (ابو اسامہ رحمہ اللہ کی روایت میں بَعْدَكَ کی بجائے غَيْرَكَ آپ کے سوا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اٰمنتُ باللہ (میں اللہ پر ایمان لایا) کہہ کر اس پر پُختگی کے ساتھ قائم رہو یا جم جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 159]
ترقیم فوادعبدالباقی: 38
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي فى ((جامعه)) فى الزهد، باب: فى حفظ اللسان۔ وقال: هذا حديث حسن صحيح - وقال: وقد روی من غير وجه عن سفيان بن عبدالله الثقفي برقم (2410) وابن ماجه فى ((سننه)) فى الفتن، باب: كف اللسان فى الفتنة برقم (3972) انظر ((التحفة)) برقم (4478)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سفيان بن عبد الله الثقفي، أبو عمرة، أبو عمروصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← سفيان بن عبد الله الثقفي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
159
قل آمنت بالله فاستقم
جامع الترمذي
2410
قل ربي الله ثم استقم ما أخوف ما تخاف علي فأخذ بلسان نفسه ثم قال هذا
سنن ابن ماجه
3972
قل ربي الله ثم استقم ما أكثر ما تخاف علي فأخذ رسول الله بلسان نفسه ثم قال هذا
مشكوة المصابيح
15
قل: آمنت بالله ثم استقم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 159 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،صحیح مسلم 159
اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی
«وعن سفيان بن عبدالله الثقفي، قال: قلت: يارسول الله صلى الله عليه وسلم! قل لي فى الإسلام قولاً لا أسال عنه أحداً بعدك، وفي رواية: غيرك . قال: قل آمنت بالله، ثم استقم .» [رواه مسلم]

(سیدنا) سفیان بن عبداللہ الثقفی (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام میں ایسی (جامع) بات بتائیں کہ آپ کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر (اس پر) ثابت قدم ہو جاؤ۔ [مسلم: 63/38]
اس حدیث اور دیگر دلائل سے ثابت ہے کہ دین اسلام کا اصل اور بنیادی رکن ایمان باللہ ہے۔ اللہ ہی معبود برحق، مشکل کشا، حاجت روا، فریاد رس، حاکم اعلی اور قانون ساز ہے۔ اس کی صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں، یہی وہ عقیدہ توحید ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے۔
اس حدیث کی بعض سندوں میں یہ اضافہ ہے کہ:
سیدناسفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں کس چیز کا آپ کو سب سے زیادہ خوف ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: یہ، یعنی اس زبان کا خوف سب سے زیادہ ہے۔ [سنن الترمذي: 2410 وقال: هذا حديث حسن صحيح، شعب الايمان للبيهقي: 4919 والزهري صرح بالسماع عنده]
یاد رہے کہ توحید کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ آدمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں شروع کر دے۔ آپ کے علم کو حیوانات، پاگلوں اور بچوں کے علم سے تشبیہ دینے لگے۔ معاذ اللہ، ایسا آدمی موحد نہیں بلکہ ملحد و زندیق ہے۔
توحید کا یہ لازمی نتیجہ اور رکن ہے کہ آدمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بغیر افراط و تفریط کے صحیح ایمان لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت اور پیار کرے۔ آپ کی گستاخی کے تصور اور خیال سے بھی بہت دور بھاگے۔ نہ تو آپ کو الٰہ معبود بنا دے اور نہ آپ کے مقام، فضیلت و درجات میں کسی قسم کی کمی کرے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے۔ ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں۔ آمین
شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 14 صفحہ نمبر 3 تا 4
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 159
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
آمنتُ بالله:
یہ ایک عہدوپیمان ہے جس کا معنی ہے،
میں نے اللہ تعالیٰ کے ہر حکم ہر ہدایت کو دل و جان سے مان لیا اور دین اسلام پر عمل کرنے کی ذمہ داری کو قبول کر لیا۔
استقامت:
استحکام و پختگی اور مضبوطی،
جم جانا،
ڈٹ جانا،
استقلال و پامردی دکھانا،
اس لیے استقامت کا تقاضا ہے کہ انسان اس اقرار اور معاہدے سے انحراف اختیار کیے بغیر زندگی بھر اسلام کے احکام کی پابندی اور التزام کرے،
ہر قسم کے گرم،
سرد حالات،
کڑے سے کڑے اور مشکل سے مشکل مرحلہ میں اس کے پائے استقامت میں ضعف و انحلال نہ آئیں اور کسی مرحلہ پر بھی اس کے پاؤں نہ ڈگمگائیں۔
اس لیے امام ابو القاسم قشیری نے لکھا ہے:
کہ استقامت درجہ ہے،
جس کے نتیجہ میں تمام کام،
کامل طریقہ پر سر انجام پاتے ہیں،
تمام نیکیاں اور بھلائیاں وجود میں آتی ہیں،
جس شخص میں استقامت و استقلال نہ ہو اس کی ہر کوشش رائیگاں جاتی ہے۔
(شرح مسلم نووی: 1/48)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 159]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 15
استقامت فی الدین
«. . . ‏‏‏‏وَعَن سُفْيَان بن عبد الله الثَّقَفِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ وَفِي رِوَايَةٍ: غَيْرَكَ قَالَ: " قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّه ثمَّ اسْتَقِم. رَوَاهُ مُسلم . . .»
. . . سیدنا سفیان بن عبداللہ الثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتلا دیجیے کہ آپ کے بعد کسی سے دریافت نہ کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اسی پر جمے رہو۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 15]
تخریج الحدیث:
[صحيح مسلم 159]

فقہ الحدیث
➊ اس حدیث اور دیگر دلائل سے ثابت ہے کہ دین اسلام کا اصل اور بنیادی رکن ایمان باللہ ہے۔ اللہ ہی معبود برحق، مشکل کشا، حاجت روا، فریاد رس، حاکم اعلیٰ اور قانون ساز ہے۔ اس کی صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں، یہی وہ عقیدہ توحید ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
«وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ»
اور یقینا ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا تاکہ تم (ایک) اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچ جاؤ۔ [سورة النحل: 36]
طاغوت ہر شیطان، کاہن، جادوگر اور اس معبود باطل کو کہتے ہیں جو اپنی عبادت پر راضی ہوتا ہے۔
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب التمیمی رحمہ اللہ (متوفی 1206ھ) فرماتے ہیں:
طاغوتوں کے سردار پانچ ہیں:
① شیطان۔
② ظالم حکمران جو اللہ کے احکام کو بدل دیں۔
③ جو شخص اللہ کے نازل کردہ دین کے بغیر حکم چلائے اور فیصلے کرے۔
④ جو شخص اللہ کے بغیر علم غیب کا دعویٰ کر دے۔
⑤ جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے اور وہ اپنی عبادت پر راضی ہو۔ [رساله معنى الطاغوت وأنواعه/مولفات الامام محمد بن عبدالوهاب ج1 ص377]
یاد رہے کہ توحید کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں شروع کر دے آپ کے علم کو حیوانات، پاگلوں اور بچوں کے علم سے تشبیہ دینے لگے۔ معاذ اللہ ایسا آدمی مؤحد نہیں بلکہ ملحد و زندیق ہے۔
➋ یہ حدیث اس آیت کریمہ کے مطابق ہے جس میں ارشاد ہے:
«إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ»
جن لوگوں نے کہا: اللہ ہمارا رب ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہو کر کہتے ہیں: نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کی تمہیں خوشخبری ہو جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا تھا۔ [حم سجده: 30] نیز دیکھئے: [سورة الاحقاف: 13]
➌ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان دلی تصدیق، زبانی قول اور جسمانی عمل کا نام ہے، لہٰذا یہ حدیث بھی بدعتی فرقے مرجیہ کا رد ہے، جن کا یہ خیال ہے کہ اعمال ایمان میں داخل نہیں ہیں۔ ان بدعتیوں کے نزدیک ایمان صرف زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کا نام ہے۔
➍ یہاں استقامت اور ثابت قدمی سے شرک و کفر اور تمام منہیات سے کلی اجتناب اور تمام ظاہری و باطنی طاعات (اعمال صالحہ) پر عمل مراد ہے۔
◈ سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«ثم استقاموا فلم يلتفتوا إلى إله غيره» پھر وہ ثابت قدم رہے، پس انہوں نے اللہ کے سوا کسی الٰہ (معبود) کی طرف دیکھا تک نہیں۔ [تفسير طبري، ج24، ص73 وسنده صحيح]
◈ مفسر قرآن قتادہ بن دعامہ (تابعی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«استقاموا على طاعة الله» وہ اللہ کی اطاعت پر ثابت قدم رہے۔‏‏‏‏ [تفسير عبدالرزاق: 2706 وسنده صحيح]
➎ اس حدیث کی بعض سندوں میں یہ اضافہ ہے کہ سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں کس چیز کا آپ کو سب سے زیادہ خوف ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: یہ یعنی اس زبان کا خوف سب سے زیادہ ہے۔ [سنن الترمذي: 2410 وقال: هذا حديث حسن صحيح، شعب الايمان للبيهقي: 4919 والزهري صرح بالسماع عنده]
اصول حدیث میں یہ بات مقرر ہے کہ ثقہ کی زیادت مقبول ہوتی ہے۔ ایک صحیح روایت میں کچھ الفاظ نہ ہوں اور دوسری صحیح میں موجود ہوں تو دونوں روایتوں کو ملا کر ہی مسئلہ سمجھنا اور حجت ماننا چاہئیے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 15]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3972
فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان۔
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: اللہ میرا رب (معبود برحق) ہے اور پھر اس پر قائم رہو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس کا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3972]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ایمان پر قائم رہنا اس لیے ضروری ہے کہ جہنم سے نجات صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب انسان کی موت ایمان کی حالت میں آئے۔

(2)
زبان سے جس قدر زیادہ گناہ سرزرد ہوتے ہیں اتنے دوسرے اعضاء سے نہیں ہوتے۔
زبان کے گناہ آسانی سے ہوجاتے ہیں۔

(4)
معاشرے میں زبان کے گناہوں کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی دوسرے گناہوں کو۔

(5)
زبان کے گناہوں کے اثرات زیادہ شدید ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں اوربہت سے گناہ سرزرد ہوتے ہیں مثلاً:
قتل وغارت وغیرہ اس لیے زبان کے بارے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3972]