🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب الجمع بين الصلاتين في الحضر:
باب: اقامت میں دو نمازوں کو جمع کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1636
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَجَعَلَ النَّاسُ، يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، لَا يَفْتُرُ، وَلَا يَنْثَنِي، الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ، لَا أُمَّ لَكَ؟ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ: فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ.
زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عصر کے بعد ہمیں خطاب کرنے لگے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے: نماز، نماز! پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ تھکتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، نماز، نماز کہے جا رہا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ماں نہ ہو! تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ عبداللہ بن شفیق نے کہا: تو اس سے میرے دل میں کچھ کھٹکنے لگا، چنانچہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1636]
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عصر کے بعد خطاب شروع کیا، حتی کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے، نماز، نماز۔ پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ سست پڑتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، نماز، نماز کہے جا رہا تھا۔ تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا، بڑے تعجب اور حیرت کی بات ہے کیا تو مجھے سنت سکھا رہا ہے، پھر کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا، عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں تو اس سے میرے دل میں خلش اور کھٹکا پیدا ہوا۔ تو میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر
Newعبد الله بن شقيق العقيلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فيه نصب
👤←👥الزبير بن الخريت البصري
Newالزبير بن الخريت البصري ← عبد الله بن شقيق العقيلي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← الزبير بن الخريت البصري
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع
Newسليمان بن داود العتكي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1636 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1636
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اس واقعہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انھوں نے دونوں نمازوں کو ایک نماز کے وقت میں پڑھا اور اس کو سفر والی نماز کی طرح پڑھا اس لیے اگلی روایت میں یہ الفاظ آئے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دو نمازوں کو جمع کیا کرتے تھے اور مرفوع روایات میں جمع حقیقی کی صراحت موجود ہے اور جمع صوری تو درحقیقت جمع ہے ہی نہیں۔
اس میں تو نماز اپنے اپنے وقت میں پڑھی گئی ہے بخاری اورمسلم کی روایات میں صرف جمع تاخیر کا تذکرہ ہوا ہے کسی روایت میں جمع تقدیم کا ذکر موجود نہیں ہے۔
اس لیے جمع تقدیم کی روایات کی صحت کے بارے میں اختلاف واقع ہوا ہے بعض صحیح قرار دیتے ہیں۔
اوربعض ضعیف۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1636]