🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب جواز الانصراف من الصلاة عن اليمين والشمال:
باب: نماز پڑھ کے دائیں بائیں دونوں طرف مڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 708 ترقیم شاملہ: -- 1641
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ عَن السُّدِّيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ ".
سفیان بن عینیہ نے سدی سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سے رخ پھیرا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1641]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف پھرا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1641]
ترقیم فوادعبدالباقی: 708
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥السدي الكبير، أبو محمد
Newالسدي الكبير ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← السدي الكبير
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1641 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1641
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عبد اللہ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بقول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر بائیں طرف پھرا کرتے تھے اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً دائیں طرف مڑا کرتے تھے اس طرح ہر ایک نے اپنا اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعتاً دونوں طرف پھرا کرتے تھے اور دونوں طرح جائز اور سنت ہے اس لیے کسی ایک طرف کو لازم ٹھہرانا اور اس کی پابندی کرنا درست نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ دائیں طرف کے بہتر ہونے کی وجہ سے انسان زیادہ دائیں طرف سے پھرے لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعیین نہیں کی اس لیے اسی کو متعین کر لینا شریعت سازی ہے جو جائز نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1641]

Sahih Muslim Hadith 1641 in Urdu