صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب صلاة الليل مثنى مثنى والوتر ركعة من آخر الليل:
باب: رات کی نماز دو دو رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
ترقیم عبدالباقی: 753 ترقیم شاملہ: -- 1759
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ "، وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ".
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے ابومجلز سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”(وتر) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”(وتر) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1759]
ابومِجْلَز بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”(وتر) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے“۔“ اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”(وتر) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے“۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1759]
ترقیم فوادعبدالباقی: 753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1759 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1759
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی مذکورہ بالاروایت سے ثابت ہوتا ہے کہ وتر آخر میں ایک ہی پڑھا جائےگا۔
اورصریح حدیث کی موجودگی میں یہ کہنا کہ دوگانہ سے ملی ہوئی ایک رکعت ہے۔
تعصب کی انتہاء ہے۔
فوائد ومسائل:
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی مذکورہ بالاروایت سے ثابت ہوتا ہے کہ وتر آخر میں ایک ہی پڑھا جائےگا۔
اورصریح حدیث کی موجودگی میں یہ کہنا کہ دوگانہ سے ملی ہوئی ایک رکعت ہے۔
تعصب کی انتہاء ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1759]
Sahih Muslim Hadith 1759 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي