صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب فضل قراءة القرآن في الصلاة وتعلمه:
باب: نماز میں قرآن پڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 803 ترقیم شاملہ: -- 1873
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ، فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: " أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ؟ ".
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر تشریف لائے۔ ہم صفہ (چبوترے) پر موجود تھے، آپ نے فرمایا: "تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا عقیق (کی وادی) میں جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہانوں والی اونٹنیاں لائے؟" ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم سب کو یہ بات پسند ہے، آپ نے فرمایا: "پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی قراءت کرے تو یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں (کے حصول) سے بہتر ہے اور یہ تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر اور چار آیتیں اس کے لیے چار سے بہتر ہیں اور (آیتوں کی تعداد جو بھی ہو) اونٹوں کی اتنی تعداد سے بہتر ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1873]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ ہم چبوترے پر تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح «بُطْحَان» یا «عَقِیْق» کی وادی میں جائے، اور وہاں سے بغیر کسی کی حق تلفی اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لائے؟“ تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سب کو یہ بات پسند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی قراءت کرے تو یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں کے ملنے سے بہتر ہے اور تین آیات، تین سے بہتر اور چار اس کے لیے چار سے بہتر، اس طرح جتنی آیات سیکھے، سکھائے یا پڑھے گا وہ اتنی تعداد میں بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1873]
ترقیم فوادعبدالباقی: 803
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1873
| يغدو أحدكم إلى المسجد فيعلم أو يقرأ آيتين من كتاب الله خير له من ناقتين وثلاث خير له من ثلاث وأربع خير له من أربع ومن أعدادهن من الإبل |
سنن أبي داود |
1456
| يغدو أحدكم كل يوم إلى المسجد فيتعلم آيتين من كتاب الله خير له من ناقتين وإن ثلاث فثلاث مثل أعدادهن من الإبل |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1873 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1873
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
وادی بطحان اور وادی عقیق:
مدینہ منورہ کے قریبی مقامات ہیں اور صفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک چبوترہ تھا،
جس پر سائبان تھا اور باہر سے آنے والے طلبہ اور ضرورت مند افراد اس میں ٹھہرتے تھے،
جن کی تعداد کم و بیش ہوتی رہتی تھی۔
كَوْمَاوَيْن،
كوماء کا تثنیہ ہے،
بہت بڑی کوہان والی اونٹنی۔
مفردات الحدیث:
وادی بطحان اور وادی عقیق:
مدینہ منورہ کے قریبی مقامات ہیں اور صفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک چبوترہ تھا،
جس پر سائبان تھا اور باہر سے آنے والے طلبہ اور ضرورت مند افراد اس میں ٹھہرتے تھے،
جن کی تعداد کم و بیش ہوتی رہتی تھی۔
كَوْمَاوَيْن،
كوماء کا تثنیہ ہے،
بہت بڑی کوہان والی اونٹنی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1873]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1456
قرآن پڑھنے کے ثواب کا بیان۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1456]
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1456]
1456. اردو حاشیہ:
➊ بُطحان اور عقیق مدینے کے قریب دو وادیوں کے نام ہیں۔ اور یہاں اونٹوں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں۔
➋ محبت دنیا۔ جب کہ وہ دین کے تابع ہوتو جائز ہے۔
➌ قطع ر حمی ناجائز اور حرام ہے۔
➍ یہ حدیث تعلیم قرآن کی افضلیت پر دلالت کرتی ہے۔
➊ بُطحان اور عقیق مدینے کے قریب دو وادیوں کے نام ہیں۔ اور یہاں اونٹوں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں۔
➋ محبت دنیا۔ جب کہ وہ دین کے تابع ہوتو جائز ہے۔
➌ قطع ر حمی ناجائز اور حرام ہے۔
➍ یہ حدیث تعلیم قرآن کی افضلیت پر دلالت کرتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1456]
Sahih Muslim Hadith 1873 in Urdu
علي بن رباح اللخمي ← عقبة بن عامر الجهني